پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کو کمیٹیوں سے مستعفی ہونا مہنگا پڑگیا

اپوزیشن8 اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین شپ سے بھی محروم ہوگئی
شائع 15 جنوری 2026 11:13am

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے اندر اپوزیشن کو کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان کی جانب سے دیے گئے استعفوں کو تین ماہ گزرنے کے باوجود تاحال منظور نہیں کیا گیا، جس کے باعث اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی ارکان کے ذریعے یک طرفہ قانون سازی کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی عدم شرکت کے دوران پنجاب اسمبلی سے 28 بل اپوزیشن کی رائے اور مشاورت کے بغیر منظور کر لیے گئے۔ اس صورتحال نے اپوزیشن کے پارلیمانی کردار کو مزید کمزور کر دیا ہے، جبکہ حکومت کو قانون سازی میں مکمل آزادی حاصل ہو گئی ہے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق اپوزیشن نہ صرف مؤثر احتجاجی سیاست کی کوئی واضح حکمت عملی بنا سکی بلکہ کمیٹیوں سے علیحدگی کے بعد عملی طور پر خود کو قانون سازی کے عمل سے بھی باہر کر لیا۔ اس دوران اپوزیشن چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کی اہم نشست سے بھی محروم ہو گئی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کو آٹھ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، جس کے نتیجے میں اسمبلی کے اندر ان کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر اپوزیشن نے اپنی پارلیمانی حکمت عملی پر نظر ثانی نہ کی تو مستقبل میں بھی قانون سازی کے عمل میں اس کا کردار محدود رہنے کا امکان ہے۔

opposition

punjab assembly

committees

resigning