جاپان کے لوگوں کی لمبی عمر کا راز کیا ہے؟
جاپان ایک بار پھر دنیا میں طویل العمر افراد کے حوالے سے سب سے آگے نظر آ رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 تک جاپان میں 100 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ ان میں سے تقریباً 99 ہزار 700 سے زائد افراد صدی مکمل کر چکے ہیں، جبکہ حیران کن طور پر ان میں 88 فیصد خواتین شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپان میں لمبی عمر کا تعلق کسی ایک غذا یا عادت سے نہیں بلکہ ایک متوازن اور منظم طرزِ زندگی سے ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جاپانی معاشرہ خوراک، جسمانی سرگرمی، سماجی تعلقات اور احتیاطی صحت کے اصولوں کو یکجا کر کے اپناتا ہے، جو مجموعی صحت کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق دہلی میں قائم سٹی امیجنگ اینڈ کلینیکل لیبز کے بانی ڈاکٹر آکار کپور کہتے ہیں کہ، جاپان میں لمبی عمر کو صرف روایتی خوراک سے جوڑنا درست نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جاپانی عوام خوراک کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، روزمرہ فزیکل سرگرمیاں اور سماجی وابستگی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، جو مل کر صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
ڈاکٹر کپور کے مطابق جاپان میں کھانے کی مقدار پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ کم کھانا، آہستہ کھانا اور پیٹ بھرنے سے پہلے رک جانا وہاں کی عام عادت ہے، جس سے برسوں تک جسم پر میٹابولک دباؤ کم رہتا ہے۔
اس کے علاوہ الٹرا پروسیسڈ فوڈ اور زیادہ شکر کے استعمال کی شرح بھی نسبتاً کم ہے، جو صحت مند نظامِ ہاضمہ اور دل کی بہتر کارکردگی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی طرزِ زندگی میں ورزش، روزانہ پیدل چلنا، گھریلو کام کاج، بڑھاپے تک کسی نہ کسی مشغلے یا کام سے جڑے رہنا جاپانی معاشرت کا حصہ ہے۔ یہ مسلسل حرکت جسم کو فعال رکھتی ہے اور عمر کے ساتھ آنے والی کمزوری کی رفتار سست کر دیتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں زیادہ تر صدی پار کرنے والی خواتین ہیں۔ ڈاکٹر کپور کے مطابق اس کی ایک وجہ حیاتیاتی بھی ہے، کیونکہ خواتین کو جوانی میں ہارمونز، خاص طور پر ایسٹروجن، دل کی بیماریوں سے کچھ حد تک تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین میں خلیاتی عمر رسیدگی اور آکسیڈیٹو اسٹریس کے خلاف مزاحمت بھی نسبتاً بہتر دیکھی گئی ہے۔
رویوں کے لحاظ سے بھی خواتین صحت کے معاملے میں زیادہ محتاط ہوتی ہیں۔ وہ باقاعدہ طبی معائنہ کرواتی ہیں، ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرتی ہیں اور متوازن غذا کو ترجیح دیتی ہیں۔
سماجی سطح پر خواتین بڑھاپے میں بھی رشتوں اور میل جول کو برقرار رکھتی ہیں، جو ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور یادداشت کی کمزوری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جاپان میں طویل زندگی کی ایک بڑی وجہ اس کا مضبوط صحت کا نظام بھی ہے۔ ڈاکٹر کپور کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص بیماری کے اثرات کو بہت حد تک کم کر دیتی ہے۔
جاپان میں یونیورسل ہیلتھ کوریج کے باعث ہر شہری کو سستا اور آسان علاج میسر ہے، جس سے لوگ بیماری کو ایمرجنسی کے بجائے معمول کی دیکھ بھال سمجھتے ہیں۔
جاپان کا لانگ ٹرم کیئر سسٹم بزرگوں کو گھروں میں رہتے ہوئے سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے وہ زیادہ عرصے تک خودمختار اور فعال رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ویکسینیشن پروگرامز اور کمیونٹی ہیلتھ مانیٹرنگ قابلِ علاج بیماریوں کو کم کر دیتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ نہ صرف زیادہ عرصہ جیتے ہیں بلکہ صحت مند بھی رہتے ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جاپان کی طویل عمری کسی خاص غذا یا نسخے کا نتیجہ نہیں، بلکہ مستقل مزاجی کا ثمر ہے۔ متوازن خوراک، روزمرہ جسمانی سرگرمی، مضبوط سماجی تعلقات اور احتیاطی صحت کا نظام مل کر جاپانی عوام کو لمبی اور صحت مند زندگی عطا کرتا ہے۔
















