بھارت میں بھی رحمان ڈکیت گرفتار، 6 گینگز کا سرغنہ ، 12 ریاستوں پر کنٹرول
بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت کی کرائم برانچ نے ایک بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کے سرغنہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے پولیس مختلف ناموں، عابد علی، راجو، عباس علی اور رحمان ڈاکو کے نام سے جانتی ہے۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت میں بولی ووڈ فلم دھُرندھر کا ایک خیالی کردار رحمان ڈکیت خبروں میں زیرِ بحث ہے۔ اسی تناظر میں پولیس کا کہنا ہے کہ حقیقی زندگی کا ایک خطرناک مجرم بھی قانون کے شکنجے میں آ گیا ہے۔ پولیس کے مطابق رحمان ڈاکو بھارت کی کئی ریاستوں میں مطلوب تھا اور اس پر متعدد سنگین مقدمات درج تھے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ رحمان ڈاکو کا تعلق بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال سے ہے۔ خفیہ اطلاع ملنے پر کہ وہ سورت میں موجود ہے، کرائم برانچ کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے بغیر کسی فائرنگ کے گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق وہ کسی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
رحمان ڈاکو چھ سے زائد گینگز کی قیادت کر رہا تھا جو بھارت کی 12 سے 14 ریاستوں میں سرگرم تھے۔ یہ گینگز ڈکیتی، بھتہ خوری، جعل سازی، پولیس اہلکار بن کر لوٹ مار اور زمینوں پر ناجائز قبضے جیسے جرائم میں ملوث تھے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی وہ اپنے بھائی ذاکر علی کے ساتھ مل کر کرتا تھا۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ گینگ خاص طور پر بزرگ شہریوں کو نشانہ بناتا تھا۔ گینگ کے افراد جعلی ناکے لگا کر گاڑیوں کی تلاشی کے بہانے زیورات اور نقدی لوٹ لیتے تھے۔ پولیس کے مطابق رحمان ڈاکو کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں کم از کم 10 سنگین مقدمات درج ہیں اور وہ چھ سے زیادہ ریاستوں میں مطلوب تھا۔
پولیس کے مطابق رحمان ڈاکو اور اس کے ساتھی بھارت کے مختلف حصوں میں جرائم سے حاصل ہونے والی رقم سے پرتعیش زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے پاس مہنگی کاریں، موٹر سائیکلیں اور یہاں تک کہ گھوڑے بھی موجود تھے۔
سورت پولیس نے بتایا کہ دسمبر کے آخر میں بھارت کے شہر بھوپال میں تلاشی مہم کے بعد رحمان ڈاکو روپوش ہو گیا تھا اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا سورت پہنچا، جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس گینگ کے کئی ارکان پہلے ہی اسلحے کے ساتھ گرفتار ہو چکے ہیں سینئر پولیس افسر بھاویش روزیا نے اس گرفتاری کو بھارت میں منظم جرائم کے خلاف ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تفتیش کی بنیاد پر مزید کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔
















