امریکا میں ایران مخالف مظاہرے کے دوران ٹرک کی ٹکر، متعدد مظاہرین زخمی
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ایرانی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک ٹرک مظاہرین کے ہجوم میں جا گھسا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔
اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق امریکی شہر لاس اینجلس کے علاقے ویسٹ ووڈ میں اتوار کے روز ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرے کے دوران ایک یوہال ٹرک مظاہرین کے ہجوم میں جا گھسا، جس کے باعث افراتفری مچ گئی۔
احتجاج ولشائر بلیوارڈ پر واقع ایک وفاقی عمارت کے باہر کیا جا رہا تھا، جہاں سیکڑوں افراد ایران میں جاری بدامنی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دو افراد کا موقع پر طبی معائنہ کیا گیا تاہم انہوں نے علاج کروانے سے انکار کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص ٹرک کی زد میں آیا، تاہم اسے شدید چوٹیں نہیں آئیں اور موقع پر کسی ایمبولینس کو طلب نہیں کیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد پیدا ہونے والی بدنظمی میں ٹرک کا ڈرائیور خود بھی زخمی ہو گیا۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین ٹرک کے ڈرائیور کو گاڑی سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ پولیس نے مداخلت کر کے اسے حراست میں لے لیا۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے ڈرائیور کو تشدد کو نشانہ بھی بنایا۔
مظاہرین نے ٹرک پر لگے ایک بورڈ کو بھی اتار دیا جس پر عربی اور انگریزی زبان میں نعرے درج تھے، جن میں ’نو شاہ، نو رجیم‘ اور ’امریکا 1953 کو نہ دہرائے‘ شامل تھا۔
لاس اینجلس پولیس کے کیپٹن رچرڈ گیبالڈن کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو نہ تو سیاسی حملہ قرار دیا جا رہا ہے اور نہ ہی دہشت گردی، بلکہ یہ واقعہ ہجوم میں ہونے والی کسی جھڑپ کے بعد پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ نہیں، تاہم اس پر مہلک ہتھیار کے ذریعے حملے کا مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
احتجاج میں شریک ایرانی نژاد مظاہرین نے بتایا کہ ٹرک کے ہجوم میں داخل ہوتے ہی لوگ چیخنے لگے اور چند لمحوں میں احتجاج خوف اور بے چینی میں تبدیل ہو گیا۔
ٹرانسپورٹ حکام کے مطابق مظاہرے میں تقریباً تین ہزار افراد شریک تھے، جس کے باعث احتیاطی طور پر ولشائر بلیوارڈ کی شمال اور جنوب جانے والی سڑکوں کے راستے بند کر دیے گئے، جو بعد میں مظاہرین کے منتشر ہونے پر کھول دیے گئے۔
واقعے کے چند گھنٹے بعد لاس اینجلس کی میئر کیرن باس بھی موقع پر پہنچیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے، تاہم پرامن طریقے سے احتجاج کرنا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے بھی واقعے کا نوٹس لینے کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے شدید احتجاج جاری ہے، جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی عوام کی آزادی اور ان کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔













