’ماچاڈو کا نوبیل امن ایوارڈ ٹرانسفر نہیں ہوسکتا‘: ٹرمپ کی خواہش ادھوری رہ گئی

امریکی صدرکئی بار نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔
شائع 11 جنوری 2026 10:42am

ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ نوبیل امن انعام نہ تو کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے، نہ تقسیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی واپس لیا جا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ وضاحت وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اپنا 2025 کا نوبیل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کر سکتی ہیں۔

نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ نوبیل فاؤنڈیشن کے قوانین کے مطابق ایک بار انعام دینے کا فیصلہ حتمی اور مستقل ہوتا ہے، جس کے خلاف کوئی اپیل یا تبدیلی ممکن نہیں۔

ادارے کے مطابق نوبیل انعام کا اعلان ہونے کے بعد اسے نہ تو کسی اور کے نام کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی صورت میں اس کی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب ماریا کورینا ماچاڈو نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز پر ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر وہ یہ انعام ڈونلڈ ٹرمپ کو دیتی ہیں تو یہ وینزویلا کے عوام کی جانب سے ان کے لیے شکرگزاری کا اظہار ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے میں مدد ملی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا ابھی تک عملی طور پر نہیں ہوا۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر انہیں یہ انعام پیش کیا گیا تو وہ اسے قبول کرنے میں اعزاز محسوس کریں گے۔ ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور اپنے سفارتی اقدامات کو اس تناظر میں پیش کرتے رہے ہیں۔

ماریا کورینا ماچاڈو کو 2025 میں نوبیل امن انعام وینزویلا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور پرامن سیاسی جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔

وہ وینزویلا کی قومی اسمبلی کی سابق رکن رہ چکی ہیں اور انہیں 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے حکومتی پابندیوں کے باعث روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک متبادل امیدوار کی حمایت کی، جس کے بارے میں آزاد مبصرین نے دعویٰ کیا کہ وہ انتخابات میں کامیاب رہا، اگرچہ حکام نے نکولس مادورو کی فتح کا اعلان کیا تھا۔

Donald Trump

Nobel Peace Prize

maria corina machado

Nobel Institute