مونگ پھلی کا ضائع کیا جانے والا سب فائدہ مند حصہ

اصل غذائیت اور فائدہ اسی میں چھپا ہوا ہے۔
شائع 10 جنوری 2026 03:31pm

اکثر افراد مونگ پھلی کھانے سے پہلے اس کا باریک چھلکا معدے کے لیے نقصان دہ سمجھ کر الگ کر دیتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق یہ تصور غلط ہے، کیونکہ یہی سرخ چھلکا مونگ پھلی کا سب سے قیمتی اور مفید حصہ ہوتا ہے۔

سرد موسم آتے ہی گلی کوچوں میں گرم بھنی ہوئی مونگ پھلی کی خوشبو ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ذائقے میں لذیذ بلکہ قیمت میں سستی اور غذائیت کے اعتبار سے بھرپور غذا ہے، اسی لیے اسے ’’غریب آدمی کا بادام‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کھاتے وقت کی جانے والی ایک عام غلطی اس کے فوائد کو کم کر دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مونگ پھلی کے سرخ چھلکےمیں کئی اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، جن میں قدرتی فائبر، طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن ای، وٹامن بی 6 اورپولی فینولز اور فلیوونائڈز شامل ہیں۔

یہ تمام اجزا جسم کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں، مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور بڑھتی عمر کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ مونگ پھلی کو اس کی قدرتی سرخ جھلی سمیت کھانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ جھلی خلیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، دل کی کارکردگی بہتر بناتی ہے اور جسمانی توانائی میں اضافہ کرتی ہے۔

مونگ پھلی کے سرخ چھلکے میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے اور قبض جیسے مسائل سے بچاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے، جس کی وجہ سے ذیابیطس کے مریض بھی محدود مقدار میں اسے استعمال کر سکتے ہیں۔

اگرچہ مونگ پھلی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال گیس، اپھارے یا بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ مونگ پھلی ہمیشہ مناسب مقدار میں کھائی جائے۔ جن افراد کو مونگ پھلی سے الرجی ہو یا معدے کے شدید مسائل لاحق ہوں، انہیں استعمال سے قبل ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

سردیوں میں مونگ پھلی ایک مزیدار اور توانائی بخش اسنیک ہے، بشرطیکہ اسے درست طریقے سے کھایا جائے۔ اگلی بار جب آپ مونگ پھلی نوش کریں تو اس کے سرخ چھلکے کو ضائع نہ کریں، کیونکہ اصل غذائیت اور فائدہ اسی میں پوشیدہ ہے۔

peanuts

Wasted

Most Beneficial Part