یورپ کا انوکھا گاؤں؛ رہائش اور کام ’ویزا فری‘ مگر تدفین کی اجازت نہیں

یہاں سال کے ایک حصے میں سورج مسلسل 24 گھنٹے چمکتا رہتا ہے.
اپ ڈیٹ 10 جنوری 2026 10:35am

دنیا میں کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جو اپنے حیران کن قوانین اور منفرد طرزِ زندگی کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک غیر معمولی مقام سوالبارڈ (Svalbard) ہے، جو یورپ کا حصہ ہونے کے باوجود اپنے عجیب و غریب اصولوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

یہ وہ واحد بستی سمجھی جاتی ہے جہاں لوگ رہ اور کام تو کر سکتے ہیں، مگر نہ یہاں بچے پیدا کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی دفنانے کی۔

سوالبارڈ آرکٹک اوشین کے وسط میں واقع ہے اور ناروے کے مرکزی علاقے سے تقریباً 930 کلومیٹر شمال میں جبکہ قطبِ شمالی سے صرف 650 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

یہ دنیا کی وہ بستی ہے، جہاں سال کے ایک حصے میں سورج مسلسل 24 گھنٹے چمکتا رہتا ہے، جبکہ باقی مہینوں میں اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ ان تاریک دنوں میں آسمان پر جھلملاتی ناردرن لائٹس اس علاقے کو کسی خواب ناک دنیا میں بدل دیتی ہیں۔

سخت اور کٹھن ماحول کے باوجود یہاں تقریباً 2,500 سے 3,000 افراد آباد ہیں، مگر شدید موسمی حالات کے باعث یہاں نہ تو زچگی کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی تدفین ممکن ہے۔

انتہائی سرد درجہ حرارت کی وجہ سے انسانی لاشیں قدرتی طور پر گل سڑ نہیں پاتیں۔ ماضی میں اس سے سنگین صحت کے مسائل پیدا ہوئے، اسی لیے اب یہاں تدفین کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی شخص شدید بیمار ہو جائے یا بوڑھا ہو جائے تو اسے جزیرے سے روانہ ہونا پڑتا ہے۔

یہاں نہ کوئی اولڈ ہوم ہے اور نہ ہی ریٹائرمنٹ کا تصور۔ جو لوگ کام کرنے یا خود کفیل زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے، انہیں یہاں سے لازما جانا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سوالبارڈ کی زندگی نوجوان، محنتی اور مضبوط اعصاب رکھنے والوں کے لیے ہے، نہ کہ آرام طلب ریٹائرمنٹ کے لیے۔

اس گاوں میں صحت کی بنیادی سہولتیں تو موجود ہیں، مگر پیچیدہ علاج یا ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں۔ جدید طبی سہولیات کی کمی کے باعث حاملہ خواتین کو زچگی سے کئی ہفتے قبل ناروے کے مرکزی علاقے جانا پڑتا ہے۔

سوالبارڈ میں قطبی ریچھ انسانوں سے زیادہ ہیں، جبکہ بلیوں پر مکمل پابندی ہے۔ اس کی وجہ نازک آرکٹک پرندوں کی آبادی کا تحفظ ہے۔

جو بھی شہر کی حدود سے باہر جاتا ہے، اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آتشیں اسلحہ ساتھ رکھے، تاکہ قطبی ریچھ کے ممکنہ حملے سے بچاؤ کیا جا سکے۔

تمام تر سختیوں کے باوجود سوالبارڈ کو دنیا کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، لوگ اپنے گھروں کو تالا لگائے بغیر چھوڑ دیتے ہیں اور سائیکلیں سڑک پر ہی کھڑی رہتی ہیں۔

سوالبارڈ کا ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ یہاں رہنے اور کام کرنے کے لیے کسی ویزا یا ورک پرمٹ کی ضرورت نہیں۔

1920 کے سوالبارڈ معاہدے کے تحت، معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کے شہری یہاں بغیر ویزا رہ اور کام کر سکتے ہیں۔ کوئی باقاعدہ امیگریشن عمل نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ آنے والا شخص اپنی شناخت ثابت کرے، اپنے اخراجات خود اٹھا سکے اور یہاں روزگار حاصل کر لے۔

ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ سوالبارڈ جانے کے لیے براہِ راست کوئی پرواز موجود نہیں۔ تمام مسافروں کو ناروے کے شہروں اوسلو یا ٹرومسو کے ذریعے جانا پڑتا ہے، جس کے لیے غیر یورپی ممالک کے شہریوں کو شینجن ویزا درکار ہوتا ہے۔

سوالبارڈ ایک اور وجہ سے بھی عالمی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں موجود گلوبل سیڈ والٹ قدرتی آفات، جنگ اور موسمی تباہی سے محفوظ رہنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اسے انسانیت کی زرعی انشورنس پالیسی کہا جاتا ہے۔ یہ بیج منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کیے جاتے ہیں۔

سخت موسم، انوکھے قوانین اور محدود سہولتوں کے باوجود، سوالبارڈ آج بھی مہم جو سیاحوں اور منفرد تجربات کے شوقین افراد کے لیے دنیا کے سب سے پُرسکون اور پراسرار مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

یہ وہ دنیا نہیں جہاں ہر انسان خودبخود پہنچ جائے، لیکن جب وہ جان لیتا ہے کہ یہاں زندگی کیسے گزرتی ہے، تو یہ جگہ ذہن سے کبھی نہیں نکلتی۔

یورپ

village

Live And Work Visa Free

births and burials are forbidden

Svalbard