طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے دنیا کو لٹیروں کا اڈہ نہ بنائیں، جرمن صدر
جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین نے امریکی خارجہ پالیسی پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا موجودہ عالمی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ دنیا کو اس بات سے بچانا ہوگا کہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے عالمی نظام کو ’لٹیروں کے اڈے‘ میں تبدیل کر دیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جرمن صدر فرینک والٹراسٹین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا وہ ملک ہے جس نے عالمی نظام کی تشکیل اور مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اب وہی ملک بنیادی اقدار کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر نے کہا کہ آج عالمی جمہوریت کو ایسے خطرات لاحق ہیں جیسے اس سے پہلے کبھی نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے کریمیا کا الحاق اور یوکرین پر مکمل حملہ ایک تاریخی موڑ تھا، تاہم امریکا کا موجودہ رویہ ایک اور بڑے تاریخی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
فرینک والٹراسٹین نے کہا کہ اب معاملہ صرف قوانین کی خلاف ورزی یا عالمی نظام کی کمزوری پر شکایت تک محدود نہیں رہا بلکہ نقصان بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو اس بات سے بچانا ہوگا کہ وہ ایک ایسے لٹیروں کے اڈے میں بدل جائے جہاں بے رحم طاقتیں جو چاہیں حاصل کر لیں اور پورے کے پورے خطے یا ممالک چند بڑی طاقتوں کی ملکیت بن جائیں۔
جرمن صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ درمیانے اور کمزور ممالک کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور عالمی سطح پر انصاف اور تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے لیے کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق 76 فیصد جرمن شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایسا شراکت دار نہیں رہا جس پر بھروسہ کیا جا سکے۔ یہ شرح جون 2025 کے مقابلے میں تین فیصد زیادہ ہے۔ سروے میں صرف 15 فیصد افراد نے کہا کہ وہ امریکا پر اعتماد کرتے ہیں، جو اب تک کی کم ترین سطح ہے۔













