نیوزی لینڈ کے ساحل پر پھنسی 6 وہیل مچھلیاں ہلاک
نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے کے ایک دور افتادہ ساحلی علاقے فیئرویل اسپِٹ پر درجنوں وہیل مچھلیاں ساحل پر پھنس گئیں، جن میں سے کم از کم چھ ہلاک ہوچکی ہیں جبکہ پندرہ اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
بی بی سی نیوز کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا، جب تقریباً پچپن پائلٹ وہیلز ساحل پر نکل آئیں۔ بیشتر نے کسی طرح گہرے پانیوں کا رخ کرلیا، تاہم دوبارہ لہر کے کم ہونے سے پندرہ مچھلیاں پھر ریت میں دھنس گئیں اور اب تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے میں پھیلی ہوئی ہیں۔
ماحولیاتی تنظیم پروجیکٹ جوناہ کے رضاکار مسلسل ان مچھلیوں کو گیلا کر کے ان کی جلد کو ٹھنڈا رکھ رہے ہیں تاکہ وہ سورج کی تپش سے محفوظ رہ سکیں۔
تنظیم کی نمائندہ لوئیزا ہاکس کے مطابق، ”جب مد و جزر کا پانی واپس آئے گا تو ہمیں بہت تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ ہمارا مقصد ان پھنسی ہوئی وہیلز کو اکٹھا کرنا اور مناسب گہرائی میں پہنچا دینا ہے تاکہ وہ دوبارہ سمندر میں اپنا راستہ تلاش کر سکیں۔“
پائلٹ وہیلز سماجی مخلوق ہیں اور قدرتی طور پر ایک دوسرے کا خیال رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باہمی وابستگی کے باعث یہ جتھوں کی صورت میں رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی جذباتی عادت اکثر ان کے اجتماعی طور پر ساحل پر پھنس جانے کا سبب بنتی ہے۔
رضاکاروں کی ٹیم امید رکھتی ہے کہ اگر ان 15 وہیلز کو ”منظم گروپ“ کی شکل میں اکٹھا کرکے دوبارہ چھوڑا جائے تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ سمندر کی جانب ورانہ ہوجائیں گی۔
ادھر نیوزی لینڈ کے شعبے ’تحفظِ ماحول‘ نے علاقے میں نگران عملہ، کشتی اور ایک ڈرون تعینات کیا ہے تاکہ ممکنہ مزید وہیلز کی اس صورتِ حال سے دوچار ہونے کی صورت میں فوری کارروائی کی جاسکے۔
محکمہ کا کہنا ہے کہ فیئرویل اسپِٹ ایک قدرتی ”وہیل ٹریپ“ کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں نرم ڈھلوان والے ساحل اور تیزی سے گرتی ہوئی لہریں اکثر بڑی سمندری جانداروں کے لیے سراب جیسا دھوکہ بن جاتی ہیں۔
اس مقام پر اس سے قبل بھی کئی بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ فروری 2017 میں یہاں 400 سے زائد پائلٹ وہیلز پھنس گئی تھیں، جو گزشتہ ایک صدی میں نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی تعداد تھی۔
ماہرین کے مطابق، ایسے واقعات موسمیاتی تبدیلی اور سمندری راستوں کی بے ترتیبی کے اثرات بھی ظاہر کرتے ہیں، جو بتدریج سمندری حیات کے قدرتی توازن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
















