لوگوں کو دو دو ہزار سال سزائیں سنادیں کیا ایسے ملک چلے گا ، فواد چوہدری

حکومت روز تماشا لگا رہی ہے ، زرداری اور شہباز شریف مذاکرات کی اونر شپ لیں، سابق وفاقی وزیر
شائع 09 جنوری 2026 12:19pm

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ نیا تماشا رچایا جا رہا ہے اور سخت سزاؤں سے ملک نہیں چل سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی کشمکش میں دونوں جانب سے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے اور سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ اس حکومت کو روز ایک تماشا چاہیے، اگر لوگوں کو دو دو ہزار سال کی سزائیں بھی سنا دی جائیں تو کیا اس طرح ملک چل سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ مسائل حل کرنے کے بجائے حالات کو مزید بگاڑا جا رہا ہے۔

فواد چوہدری نے اپوزیشن کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے بھی کوئی سنجیدہ بات نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر نے اگر کوئی عہدہ قبول کیا ہے تو انہیں تھوڑی ہمت بھی دکھانی چاہیے، ہمیں معلوم ہے کہ آپ مذاکرات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 30 فیصد پاکستانی تین وقت کا کھانا کھانے سے محروم ہیں اور اس وقت ملک کی آمدنی 2015 کی سطح پر واپس جا چکی ہے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کوئی اوورسیز پاکستانی ایک ڈالر بھی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حکومت کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا کہ مذاکرات کے لیے حکومت کو پہلے سیاسی ماحول بہتر بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور شہباز شریف ان مذاکرات کی اونر شپ لیں، کیونکہ دونوں جانب کی لڑائی میں پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اب تک خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کافی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ان کے حوالے سے دیا گیا حالیہ بیان افسوسناک ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ سیاسی ماحول بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو جیل سے رہا کیا جائے، کیونکہ اس طرح کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

pti

fawad chaudhry

former federal minister