الیکٹرک گاڑیوں میں چین برطانیہ کا بڑا سپلائر بن گیا

برطانیہ میں فروخت ہونے والی ہر چار میں سے ایک سے زائد الیکٹرک گاڑیاں چینی ساختہ ہیں۔
شائع 06 جنوری 2026 05:19pm

برطانیہ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تیزی کے ساتھ چین کا کردار نمایاں ہو گیا ہے، جہاں فروخت ہونے والی ہر چار میں سے ایک سے زائد الیکٹرک گاڑیاں چینی ساختہ ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے خاتمے کی پالیسی کے تحت برطانیہ کا الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چین پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، جس پر غیر منصفانہ سبسڈی اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز (ایس ایم ایم ٹی) کے مطابق، گزشتہ سال برطانیہ میں فروخت ہونے والی 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد الیکٹرک کاروں میں سے 27.9 فیصد چین میں بنی تھیں۔

تمام اقسام کی گاڑیوں کو شامل کیا جائے تو چینی ساختہ گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر 13.5 فیصد رہا، جو ایک نیا ریکارڈ ہے، یعنی فروخت ہونے والی ہر آٹھ میں سے ایک گاڑی چینی تھی۔ بی وائے ڈی، جیکو اور اوموڈا جیسے برانڈز کی جارحانہ مارکیٹنگ کے باعث فروخت میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

چینی کمپنی بی وائے ڈی کی برطانیہ میں فروخت گزشتہ سال پانچ گنا سے بھی زیادہ بڑھی۔ 2025 میں بی وائے ڈی نے ٹیسلا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک کار فروخت کرنے والی کمپنی کا اعزاز حاصل کیا۔

یہاں تک کہ مشہور برطانوی برانڈ ایم جی بھی اب چینی ملکیت میں ہونے کے بعد چین میں تیار ہو رہا ہے۔ سویڈن میں قائم الیکٹرک گاڑی بنانے والی کمپنی پول اسٹار بھی چین میں گاڑیاں تیار کرتی ہے، جبکہ ٹیسلا کے بعض ماڈلز شنگھائی پلانٹ میں بنتے ہیں۔

چینی الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کے باعث 2025 میں برطانیہ میں نئی رجسٹر ہونے والی گاڑیوں میں الیکٹرک کاروں کا حصہ 23.4 فیصد تک پہنچ گیا، جب کہ دسمبر میں یہ شرح 32.3 فیصد رہی۔

یہ اعداد و شمار لیبر حکومت کے وزرا کے لیے خوش آئند ہیں، جنہوں نے 2030 تک نئی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی فروخت پر پابندی اور 2035 تک ہائبرڈ گاڑیوں کے خاتمے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تاہم، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چین پر بڑھتا انحصار متنازع بنتا جا رہا ہے۔ یورپی یونین اور امریکا دونوں نے غیر منصفانہ حکومتی سبسڈی اور ممکنہ قومی سلامتی کے خدشات کے باعث چینی درآمدات کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک ”سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز“ کے مطابق، چینی حکومت نے 2009 سے 2023 کے درمیان اپنی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو کم از کم 230 ارب ڈالر (170 ارب پاؤنڈ) کی معاونت فراہم کی۔

امریکا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر کے عملی طور پر اپنی مارکیٹ بند کر دی ہے، جب کہ یورپی یونین نے بھی بھاری محصولات نافذ کیے ہیں۔ تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ چینی گاڑیوں پر ٹیرف لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز (ایس ایم ایم ٹی) کے مطابق، ہائبرڈ گاڑیوں کو شامل کرنے کے بعد بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں اب نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت کا تقریباً نصف حصہ بن چکی ہیں۔ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں سب سے تیزی سے بڑھنے والا شعبہ رہیں، جن کی فروخت میں گزشتہ سال 35 فیصد اضافہ ہوا۔

مکمل الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 24 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ پٹرول گاڑیوں کی فروخت میں 8 فیصد اور ڈیزل گاڑیوں میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے باوجود، الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت حکومتی زیرو ایمیشن وہیکل مینڈیٹ سے پیچھے رہی، جس کے تحت 2025 میں 28 فیصد گاڑیوں کا الیکٹرک ہونا لازمی تھا۔

مینڈیٹ پر پورا نہ اترنے والی کمپنیوں کو دوسرے مینوفیکچررز سے کریڈٹس خریدنے، بعد کے سالوں میں کمی پوری کرنے یا دیگر گاڑیوں کے کاربن اخراج میں کمی کے ذریعے فرق پورا کرنا ہوتا ہے۔ بصورت دیگر، ہر غیر مطابقت رکھنے والی گاڑی پر 12 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایس ایم ایم ٹی کے مطابق، کار ساز کمپنیوں نے گزشتہ سال الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت بڑھانے کے لیے 5.5 ارب پاؤنڈ کی سبسڈی دی، جو فی گاڑی تقریباً 11 ہزار پاؤنڈ بنتی ہے۔ ادارے نے اس صورتحال کو غیر پائیدار قرار دیتے ہوئے حکومت سے شرائط نرم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایس ایم ایم ٹی کے چیف ایگزیکٹو مائیک ہوز نے کہا کہ 2027 میں ہونے والا مینڈیٹ کا جائزہ اسی سال کیا جانا چاہیے کیونکہ موجودہ اہداف مارکیٹ کی قدرتی طلب سے مطابقت نہیں رکھتے۔

یورپی یونین نے پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی لگانے کی تاریخ 2035 کے بجائے اب 2040 کر دی ہے، لیکن برطانیہ کی لیبر حکومت نے اس فیصلے کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری جانب، گزشتہ سال برطانیہ میں نئی گاڑیوں کی فروخت میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 20 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ گئی، جو 2019 کے بعد سب سے زیادہ ہے، تاہم یہ فروخت اب بھی کورونا وبا سے پہلے کے دور سے کم ہے۔

Electric Cars

electric vehicles

BYD

China UK

EV Policy

Green Transport

UK Auto Industry

China EV

EV Market