خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے: ترجمان پاک فوج
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ایک جماعت کہتی ہے آپریشن نہیں کرنے دیں گے، فوج صوبے سے نکل جائے۔ وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، فوجی آپریشن نہ کریں تو کیا کریں؟ کیا دہشت گردوں کے قدموں میں بیٹھ جائیں؟ کیا ان سے بھیک مانگیں؟
منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ملکی سیکیورٹی صورت حال اور دیگر اہم امور پر میڈیا کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ فوج خیبرپختونخوا سے نکل جائے، پاک فوج وفاقی حکومت کی ہدایت پرکام کرتی ہے، یہ کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں آپریشن نہیں کرنے دیں گے، سوات میں بڑی قربانیوں کے بعد امن قائم ہوا، کیا آپ سوات میں دہشت گردوں کی اجارہ داری چاہتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اے این پی اور غیور سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہوئیں، یہ خود فتنہ الخوارج کے سامنے کھڑے ہونے کو تیار نہیں، فتنہ الخوارج اس سیاسی جماعت پر حملہ کیوں نہیں کرتی، یہ فتنہ الخوارج کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں، یہ سیاسی جماعت افغانستان سے مدد مانگ رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی، جس کے بعد ان کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، یہ صاحب مضحکہ خیز قسم کی گفتگو کیوں کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کرنا کیا ہے؟ کیا دہشت گردوں کے پیروں میں بیٹھ جانا ہے؟ یہ کابل سے سیکیورٹی گارنٹی دینے کی بھیک مانگ رہے ہیں اور اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا مسئلہ سیاسی جماعتوں نے حل کرنا ہے، سیاسی مسائل کا حل آئین میں لکھا ہوا ہے، ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم اپنی سرحدوں کے ذمہ دار ہیں، پاکستان کے لیے جو ضروری ہوگا وہ کریں گے، افغانستان میں قابض گروپ کا مسئلہ افغانوں نے حل کرنا ہے، وفاقی حکومت نے پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے، بحیثیت ادارہ ہمارا کا کام اپنی رائے دینا ہے، سیاسی مسائل کا حل وفاقی حکومت نے نکالنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان وفاقی کی علامت ہے، وفاق کی فوج ہے، سرحدوں پر وفاق کی فوج لگی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار سے زائد چیک پوسٹیں ہیں، وادی تیراہ میں کوئی پولیس نہیں، ایف سی ذمہ داری ادا کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی بلیک اینڈ وائٹ میں سوچتا ہے، سیاسی جماعت کو حکومت سے بات کرنی ہوتی ہے، مسلح افواج کسی سیاسی جماعت سے بات چیت نہیں کرتی، ہماری خواہش ہوتی ہے کہ فوج سرحدوں پر ہی کام کرے، ملکی سیکیورٹی سنبھالنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے، ہمارا مقصد علاقہ کلیئر کرکے امن قائم کرنا ہے اورعلاقہ خوشحال بنانے کے لیے انتظامیہ کے حوالے کرنا ہے، اگر کہیں امن قائم ہوجائے تو فوج وہاں کیوں رکے گی، ہمیں خود کو ہارڈ اسٹیٹ بنانا ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیراعلیٰ لگا دیا جائے؟ کیا خیبرپختونخوا میں بے امنی، دہشت گردی کو کھلی چھوٹ دے دی جائے؟ دہشت گرد جو چاہے کرتے پھریں؟ بچیوں کو اٹھا کر غاروں میں لے جائیں؟ دہشت گردوں کے باپ افغان طالبان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور جا کر واضح مؤقف دیا، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کے مقابلے میں 5 فیصد دہشت گردی بھی کہیں ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، معرکہ حق اور اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں، معرکہ حق میں بھارت کو عبرتناک شکست ہوئی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ایک شخص اپنی پارٹی ڈکٹیٹر کی طرح چلاتا تھا، وہ ایک چیز کے پیچھے پڑجاتا تو پڑ جاتا تھا، وہ خود کو بے اختیار کہنے والا بااختیار وزیراعظم تھا، اس آدمی نے تو آرمی چیف کو قوم کا باپ بنا دیا تھا، ہمیں قوم کے ایک ہی باپ کا پتا ہے اور وہ قائد اعظم ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر سے دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ ہورہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے، ٹی ٹی پی کا گڑھ افغانستان میں ہے، افغانستان کے پڑوسی ملک دہشت گردی سے متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کہتے ہیں کہ ہم نے اتحادی افواج کو خطے سے بھگا دیا، اتحادی افواج کے خطے سے انخلا کی وجہ کچھ اور ہے، اتحادی افواج نے 134 ارب ڈالر افغانستان پر خرچ کیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا افغانستان میں دہشت گردتنظیموں کی نشاندہی کررہی ہے، افغان طالبان حکومت نہیں ایک گروہ ہے، افغان طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ کہتے ہیں باقی ممالک میں افغانستان سے دہشت گردی کیوں نہیں ہورہی، کون سا پڑوسی ملک افغان طالبان سے خوش ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے کون پاکستان کو ڈالر دے رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے بقول پاکستان افغان طالبان سے 2021 سے کئی بار بات کرچکا ہے، افغانستان میں طالبان سے بات نہ کریں تو کس سے کریں، سرحد بند ہونے سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں، ہم کسی کی شرائط پر مذاکرات نہیں کرسکتے، سرحد بند ہونے سے ہمیں تو فائدہ ہی فائدہ ہے، سرحد کی بندش سے ہماری معیشت پر کوئی فرق نہیں پڑرہا، ہم نے وہ کرنا ہے تو ہمارے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے تیل کی اسمگلنگ میں واضح کمی آئی ہے، کون کہتا ہے کہ افغان طالبان اور داعش میں دشمنی ہے؟ داعش، القاعدہ، ٹی ٹی پی کا کوئی نظریہ، قومیت، مذہب نہیں ہوتا، بی ایل اے اور فتنہ الخوارج مل کر کام کررہے ہیں، بی ایل اے کا ٹی ٹی پی سے کیا تعلق ہے؟ ان کے باپ نے کہا کہ تم اکھٹے ہوجاؤ، دہشت تنظیموں کا باپ افغان طالبان ہیں، مختلف ایجنسیاں دہشت گردوں کواستعمال کرتی ہیں، ہمارے نزدیک دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں، ہمارے لیے کوئی گڈ اور بیڈ نہیں، سب دہشت گرد ہیں۔
بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کہ بھارت دہشت گردوں کو پراکسی کے طور پر استعمال کررہا ہے، بھارت دہشت گردوں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کرتا ہے، امریکا بڑی تعداد میں جدید اسلحہ افغانستان میں چھوڑ کرگیا، جو دہشت گردی میں استعمال ہورہا ہے، کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کریں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے افغانستان کو پراکسی کے طور پر استعمال کیا، پاکستان نے افغانستان کو سمجھایا کہ ایسا نہ کریں، افغانستان سے پاکستان کی پوسٹوں پربراہ راست حملے ہوئے، پاکستان نے سرحد کو بند کرکے بھرپور جوابی کارروائی کی، پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا، پاکستان نے افغان طالبان کو نہیں، تحریک طالبان پاکستان کو ٹارگٹ کیا۔ کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان پر آپریشن سندور جیسا حملہ کیا، اب تک سندور کی کالک بھارت کے منہ سے نہیں جارہی، بھارت نے سندور میں خواتین اور بچوں کو ٹارگٹ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوستان کون ہوتا ہے کسی پاکستانی کو سزا دینے والا، وزیراعظم نے کہا تھا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو پیش کریں، کسی پاکستانی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے، جانتے ہیں افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں کہاں ہیں، تمام دہشت گرد حملوں میں افغان ملوث ہیں، حملوں میں سیکیورٹی فورسز اور عوام کو نشانہ بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ جعفرایکسپریس میں 21 معصوم شہریوں کو شہید کیا گیا، نوشکی میں بس میں مسافروں کو شہید کیا گیا، کیڈٹ کالج وانا پر اے پی ایس طرز کا حملہ کیا گیا، افغانستان سے آنے والا ہر دہشت گرد مارا جاتا ہے، یہ فوج کی نہیں،عوام کی جنگ ہے، گرفتاردہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، انسانی حقوق کے نام پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کی جاتی ہے، بیوٹم یونیورسٹی کے پروفیسر نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی، ہندوستانی اکاؤنٹس سے دہشت گردوں کے حق میں بات ہوتی ہے، یہ دہشت گردوں کے ہیومن رائٹس کی بات کرتے ہیں، دنیا افغان دہشت گردوں کے خلاف بات کررہی ہے، یورپ سے افغان دہشت گردوں کو نکالا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوئچ بند کرنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی، جان ہے تو جہان ہے، امن ہوگا تو تجارت ہوگی، ہر شہری کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، کسی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا، کسی کی سیاست ریاست سے بڑی نہیں ہوسکتی، کچھ لوگ اختیارات پورے لیتے ہیں، ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، ہمارے ادارے اس طرح بااختیار نہیں، جیسے ہونے چاہئیں؟ پاک فوج کو اپنی سیاست سے دور رکھیں، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں۔
بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں کوآرڈینیشن کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان قیام امن کے لیے بہترین کام کررہے ہیں، کوآرڈینیشن کمیٹیاں ضلعی سطح پرکام کررہی ہیں، 127 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، 949 منصوبوں پر کام جاری ہے، بلوچستان حکومت نے سی ٹی ڈی کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے، بلوچستان میں دہشت گردی اور سیاسی گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے ہر ضلع میں ایک ارب روپے خرچ ہورہے ہیں، بلوچستان میں ہرضلع کے لیے فنڈز کو 3 ارب تک بڑھایا جائے گا، ضلعی سطح پر منصوبوں سے عوامی مسائل حل ہورہے ہیں، رابطوں کا کام سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے، ہمارا کام دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنا ہے، چیزوں کو واضح ہونے میں وقت لگتا ہے، فیلڈ مارشل کا وژن بالکل واضح ہے کہ فتنہ الخوارج سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، صوبائی حکومت کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی۔
دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد میں دہشت گردی کے واقعات کا احاطہ کرنا ہے، گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں ملیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی جنگ ہے۔ ہمیں اس جنگ کے خلاف متحد ہوکر لڑنا ہوگا، یہ مشکل جنگ ہے، جو ہمیں جیتنی ہوگی، جیت کر رہیں گے، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ اور معجزہ ہے، ہم حق پر ہیں، حق نے غالب ہونا ہے، ان شاء اللہ۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ 2025 میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی تاریخ نہیں ملتی، دہشت گرد خوارج ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، فتنہ الہندوستان کا پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں، دنیا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا بیانیہ تسلیم کیا، نیشنل ایکشن پلان پر تمام فریقین کا اتفاق ہے، نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا وطن کو سلام عقیدت پیش کیا اورکہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 659 آپریشنز کیے گئے، روزانہ اوسطاً 206 آپریشنز کیے جارہے ہیں، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشنز کیے گئے، گزشتہ سال آپریشنز کے دوران 5 ہزار397 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1235 افراد شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے، خیبرپختونخوا میں 16 خودکش دھماکے ہوئے، 2 خودکش حملے خواتین نے کیے، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے، 5 سال پہلےایک دہشت گرد ہلاک ہوتا تو 3 شہادتیں ہوتی تھیں، اب ایک شہادت ہوتی ہے تو 2 دہشت گرد مارے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ 3 سطح پر لڑی جارہی ہے، سرحدوں پر جوان دہشت گروں سے نبرد آزما ہیں، دہشت گردوں ے حملوں کو ناکام بنایا جارہا ہے، تیسری جنگ ٹیکنیکل سطح پر لڑی جارہی ہے، باڑ کے اطراف بھی دہشت گرد مارے جاتے ہیں، سرحد پر خوارج کی تشکیلوں کا خاتمہ کیا جاتا ہے، دہشت گرد امجد بھی دراندازی کے دوران مارا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں نے 410 کوارڈ کواپٹرز حملوں میں استعمال کیے، دہشت گرد ڈرون اور آئی ای ڈیز کو استعمال کرتے ہیں، دہشت گرد مساجد، بچوں اور آبادی کو اپنی ڈھال بناتے ہیں، پاکستان ڈرونزکو نگرانی کے لیے استعمال کرتا ہے، کوارڈ کاپٹر صرف وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں معصوم لوگ نہ ہوں۔ ترجمان پاک فوج نے سوال کیا کہ کیا آبادی کو ڈھال بنانا پختونوں کی روایت ہے؟
















