لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش؛ 48 گھنٹے اہم قرار
لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ڈی فارمیسی کی طالبہ فاطمہ نے پیر کو یونیورسٹی کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے بعد اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تاحال زیر علاج ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں پر گہرے زخم آئے ہیں، جبکہ اس کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ دوبارہ کروا لیے گئے ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق طالبہ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ طالبہ کے لواحقین نے اب تک کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے درخواست نہیں دی۔
اسپتال کے پرنسپل اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر فاروق افضل نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فاطمہ کو ساڑھے بارہ بجے اسپتال لایا گیا، جہاں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
فاروق افضل نے بتایا کہ بچی کی حالت کل کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں، جس میں اس کی زندگی کی حفاظت اور مکمل بحالی کے امکانات کا تعین کیا جائے گا۔
پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج نے بتایا کہ فاطمہ کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے اور اس کا بلڈ پریشر اور نبض نارمل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، بچی کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں ہیں جن کے لیے خصوصی طبی نگہداشت جاری ہے۔
میڈیکل بورڈ کے مطابق بچی کی مکمل صحت یابی کے لیے مزید طبی نگرانی اور علاج کی ضرورت ہے اور اسپتال انتظامیہ نے والدین اور متعلقہ حکام کو ہر لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپتال حکام نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ دعا کریں اور اس حساس معاملے میں پرائیویسی کا احترام کریں تاکہ بچی کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
پولیس اور سینئر افسران کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ یونیورسٹی کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے اور ان کی مدد سے واقعے کے حالات و واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ صبح 7 بج کر 58 منٹ پر یونیورسٹی پہنچی، تاہم کلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ طالبہ نے تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کی اور بعد ازاں اپنی موبائل کال ڈیلیٹ کر دی، جس کے فوراً بعد وہ یونیورسٹی کی دوسری منزل سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔ واقعے کے وقت 8 بج کر 30 منٹ ہو رہے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ کے بھائیوں نے واقعے سے ایک روز قبل اسے نیا فون دیا تھا۔ پولیس دونوں بھائیوں کے بیانات ریکارڈ کر رہی ہے تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ یونیورسٹی ٹیسٹ میں طالبہ نے 35 میں سے 18 نمبر حاصل کیے تھے اور پولیس کے مطابق وہ اس نتیجے سے غیر مطمئن تھی اور اس بات کو والد اور بھائیوں کو بتایا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں انتظامیہ کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ طالبہ کے بیان کے بعد تفتیش کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
ابتدائی تفتیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بظاہر کسی گھریلو معاملے سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے، تاہم حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
پولیس نے طالبہ کے لواحقین سے بھی معلومات حاصل کی ہیں تاکہ واقعے کے پس منظر کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے بعد جامعہ کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور ادارے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرتے ہوئے آن لائن کلاسز کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی حفاظت اور صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔
طالبہ فاطمہ کی بہن نے بتایا کہ ان کی بہن کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔
ان کے مطابق واقعے سے ایک رات قبل فون پر فاطمہ سے خوشگوار موڈ میں بات ہوئی تھی اور کسی پریشانی کا اندازہ نہیں ہوا۔
بہن نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ فاطمہ نے خودکشی کی کوشش کیوں کی، جبکہ اس وقت پورا خاندان شدید صدمے میں ہے۔
















