بھارت کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ لانچر کی خریداری کا معاہدہ
بھارتی فوج نے ہنگامی بنیادوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید راکٹ لانچر سسٹم کی خریداری کے لیے تقریباً 293 کروڑ روپے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ پونے کی نجی دفاعی کمپنی این آئی بی ای لمیٹڈ کے ساتھ کیا گیا ہے، جس کے تحت اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی نظام بھارت میں تیار کیا جائے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج نے ایمرجنسی پروکیورمنٹ اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملٹی کیلیبر، پوڈ بیسڈ راکٹ لانچر سسٹم کی خریداری کا آرڈر دیا ہے، جسے غیر سرکاری طور پر ’’سوریاسترا‘‘ کہا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کی مالیت تقریباً 292 سے 293 کروڑ بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس آرڈر میں لانچر ہارڈویئر، گراؤنڈ سپورٹ آلات، پوڈ لانچڈ ایمونیشن اور دیگر معاون سازوسامان شامل ہے۔ یہ نظام اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے تعاون سے بھارت میں تیار کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس خریداری کا مقصد بھارتی فوج کی صلاحیت میں فوری خلا کو پُر کرنا ہے جب کہ بڑے پیمانے پر جاری خریداری اور مقامی ترقیاتی منصوبے اپنی رفتار سے جاری رہیں گے تاہم وزارتِ دفاع نے اس نظام میں شامل ایمونیشن یا اس کی مکمل تکنیکی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق سوریاسترا سسٹم کا ڈیزائن اور صلاحیتیں اسرائیل کے تیار کردہ پریسائز اینڈ یونیورسل لانچنگ سسٹم (PULS) سے مشابہ ہیں، جو مختلف اقسام کے راکٹس اور میزائل سیل بند پوڈز کے ذریعے فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس سسٹم کے لیے شامل ایمونیشن پیکج میں تقریباً 150 کلومیٹر اور 300 کلومیٹر رینج کے راکٹس شامل ہو سکتے ہیں، جو جدید جی پی ایس اور انرشیل نیویگیشن سسٹم سے لیس ہوتے ہیں تاہم بھارتی فوج کے لیے مخصوص کنفیگریشن کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ نیا نظام بھارتی فوج کے موجودہ پنیکا ملٹی بیرل راکٹ لانچر کی جگہ نہیں لے گا بلکہ اسے طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہوئے معاون کردار ادا کرے گا۔
دفاعی ذرائع کے مطابق یہ خریداری بھارتی فوج کی جدید کاری، درست حملہ آور صلاحیت میں اضافے اور دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے حکومتی وژن کا حصہ ہے، جس کے تحت غیر ملکی ٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی تیاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔















