امریکہ نے افغان جنگ میں 763 ارب ڈالر ڈبو دیے؛ افغانستان پر ہوئے خرچے کی رپورٹ جاری

افغان حکومتوں کی کرپشن تعمیر نو میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی، رپورٹ
اپ ڈیٹ 04 جنوری 2026 01:49pm

امریکی انسپیکٹر جنرل کی جانب سے افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری جنگ اور تعمیر نو کے حوالے سے حتمی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ کی مبینہ کوششوں کے باوجود افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی۔

امریکہ کی سرکاری رپورٹ کے مطابق، 2002 سے 2021 تک امریکہ نے افغانستان میں تعمیر نو کے لیے مجموعی طور پر 144.7 ارب ڈالر مختص کیے، جن میں سے 137.3 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔

اس دوران تعمیر نو کے اخراجات یورپ کے مارشل پلان سے بھی زیادہ رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغان حکومتوں میں کرپشن تعمیر نو میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی۔

افغانستان میں جاری جنگی کارروائیوں پر امریکہ نے 763 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔

اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ ہوا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان سیکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود رہے اور فورسز کے لیے مختص ایندھن بڑے پیمانے پر چوری ہوتا رہا۔

افغان فورسز کے لیے گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات اور ہتھیار فراہم کیے گئے، جن میں 162 طیارے بھی شامل ہیں، لیکن انخلا کے بعد یہ تمام سازوسامان افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے، تاہم انسدادِ منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود وہ غیر مؤثر رہے اور اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ ہونے کے بعد بھی نتائج مایوس کن رہے۔

افغان جنگ میں 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار 700 زخمی ہوئے۔ امریکی انخلا کے بعد افغان مہاجرین کی امریکہ منتقلی کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔

سقوطِ کابل کے بعد امریکہ نے چار سالوں میں طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، جس میں صرف مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی میں 120 ملین ڈالر شامل تھے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی عطیہ دہندگان نے امریکی انخلا کے بعد 8.1 ارب ڈالر اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے منصوبوں کو دیے۔ افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے فعال ہیں، جبکہ طالبان حکومت امداد پر ٹیکس اور لیویز وصول کرتی رہی۔

afghanistan

corruption

United States

dollars

afghan war

us government report