وینزویلا میں رجیم چینج: امریکہ کو مسئلہ کیا ہے؟

امریکا نے وینزویلا پر فضائی حملے کیوں کیے اور صدر مادورو اس وقت کہاں ہیں؟
اپ ڈیٹ 03 جنوری 2026 08:12pm

امریکا نے پڑوسی ملک وینزویلا کی حکومت کے خلاف باقاعدہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کرکے بیرون ملک منتقل کرنے کی تصدیق کی ہے۔

وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر جمعے کی شب امریکا کی جانب سے متعدد فضائی حملے کیے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایک ’سرپرائز ہائبرڈ آپریشن‘ تھا جو 30 منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہوا۔

کراکس میں رات 2 بجے کم از کم سات دھماکوں اور جہازوں کی پرواز کی آوازیں سنائی دیں جو پندرہ منٹ تک جاری رہیں۔ اس دوران شہر کی فضاؤں میں کم بلندی پر اڑنے والے ہیلی کاپٹرز (ایم ایچ 60 - بلیک ہاکس) دیکھے گئے اور صدارتی محل (میرافلورس) اور فوجی مراکز کے گرد بھی زوردار دھماکے سنے گئے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی اسپیشل فورسز نے ان ہیلی کاپٹرز کے ذریعے صدارتی محل میں داخل ہو کر صدر مادورو کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ اس کارروائی کو امریکی فوج کے ایلیٹ اسپیشل فورسز یونٹ ’ڈیلٹا فورس‘ نے انجام دیا جسے امریکا کی سب سے ایلیٹ اسپیشل فورسز میں شمار کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بھی امریکی ہیلی کاپٹروں کو راکٹ فائر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حملوں میں وینزویلا کی فضائیہ اور فوجی اڈوں کو نشانہ بھی بنایا گیا۔ وینزویلا کی حکومت نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ریاست میرینڈا، اراگوا اور لا گوئیرا میں بھی فضائی حملے کیے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی اہلکاروں نے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا ہے، جہاں ان پر فوجداری مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ اب وینزویلا میں کسی مزید فوجی کارروائی کی توقع نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف کامیاب کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کیا گیا ہے اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

امریکی حملوں اور صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد روس اور ایران سمیت کئی ممالک نے اس پر فوری ردِعمل دیا۔

ایران نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے وینزویلا کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ کیوبا اور کولمبیا نے بھی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کی۔

روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جو انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اس کارروائی کے جواز کے لیے پیش کی گئی وجوہات بے بنیاد ہیں۔ روس نے اس معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے مطالبے کی بھی حمایت کی ہے۔

اگرچہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی برسوں پر محیط ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے 2017 میں پہلی بار صدر بننے اور 2025 میں دوسری مدتِ صدارت کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار ہی رہے۔

ٹرمپ اور مادورو کے ادوار میں دونوں ملکوں کے تعلقات اس بدترین نہج پر جاپہنچے جس کا نتیجہ وینزویلا پر فضائی حملوں اور صدر کی ملک بدری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

امریکا نکولس مادورو کو آمر اور ان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتا ہے جب کہ وینزویلا کی جانب سے امریکا پر تیل کے ذخائر پر قبضے کے لیے ’رجیم چینج‘ کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

تیل کے سب سے بڑے ذخائر

وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق وینزویلا میں 300 ارب بیرل سے زائد تیل موجود ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی عالمی تنظیم اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا میں تیل کے ذخائر تقریباً 303 ارب بیرل ہیں جو سعودی عرب سے بھی زیادہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق مادورو حکومت کا خاتمہ امریکی ریفائنریوں کے لیے وینزویلا کے تیل کے کنوؤں تک رسائی کو آسان بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میں وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پر پابندیاں عائد کی تھیں اور امریکا میں قائم ریفائننگ کمپنی (سِٹگو) کا کنٹرول مادورو حکومت سے لے کر اپوزیشن کے حوالے کر دیا تھا۔ جس سے مادورو حکومت اربوں ڈالر کے منافع سے محروم ہو گئی تھی۔

اس پابندی کے ردعمل میں مادورو حکومت نے وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور ریفائنریز کو روسی اور چینی کمپنیوں کے حوالے کر دیا تھا تاکہ یہ ممالک وینزویلا میں سرمایہ کاری کے بدلے مادورو حکومت کو سیاسی تحفظ فراہم کریں۔

وینزویلا حکومت نے ایران سے بھی تیل صاف کرنے والے کیمیکلز اور پرزے منگوائے تاکہ امریکی پابندیوں کے باوجود وینزویلا کی ریفائنریوں کو چلایا جاسکے۔

روس یوکرین جنگ کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکا کے سابق صدر جوبائیڈن نے وینزویلا پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تھی۔ تاہم جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالتے ہی صدر ٹرمپ نے ان تمام مراعات کو منسوخ کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے مادورو حکومت سے تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف کا بھی اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم اور صدارت کے دوران کئی بار کہا کہ ’وینزویلا تباہ ہونے والا تھا اور اس کا سارا تیل ہمارے پاس ہوتا لیکن بائیڈن نے اسے بچایا۔‘

امریکا نے نومبر 2025 میں وینزویلا کی فضائی حدود کی بندش کا اعلان کیا تھا اور سمندری علاقوں میں بھی ’آپریشن سدرن اسپیئر‘ کے تحت وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کا محاصرہ کیا تھا تاکہ کوئی بھی روسی یا چینی ٹینکر وہاں سے تیل نہ لے جا سکے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ فوجی کارروائی کے بعد بھی ٹرمپ کا واضح ہدف ان ذخائر کو امریکی کمپنیوں کے کنٹرول میں لانا ہے۔

صدر ٹرمپ متعدد بار یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ وینزویلا کے خلاف اقدامات منشیات اسمگلنگ، غیر قانونی تارکینِ وطن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت کیے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے صدر مادورو پر منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے اور ان کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام بھی مقرر کرچکی ہے۔

امریکا مادورو کی حکومت کو خطے میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کئی بار یہ دعویٰ کرچکے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ’نارکو اسٹیٹ‘ بنا رکھی ہے جو امریکا میں کوکین اور فینٹانیل سپلائی کرنے میں ملوث ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا ’مونرو ڈاکٹرائن‘ کے تحت لاطینی امریکہ کو اپنا ’بیک یارڈ‘ (صحن) سمجھتا ہے اور وہاں کسی غیر علاقائی طاقت خصوصاً مخالف ممالک کی موجودگی پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس مادورو حکومت نے ایران، روس اور چین سے تیل کے علاوہ بھی اسٹریٹیجک اور معاشی تعلقات قائم کررکھے تھے۔

امریکا کے لیے وینزویلا کی موجودہ حکومت کا خاتمہ صرف ’رجیم چینج‘ نہیں بلکہ تیل کی عالمی مارکیٹ پر اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کرنا اور روس اور چین کو خطے سے باہر نکالنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ حکومت نے وینزویلا پر حملوں کے بجائے ’سرپرائز آپریشن‘ میں نکولس مادورو کو ملک بدر کرکے اپنے لیے راستہ صاف کردیا ہے۔

United States

regime change

VENEZUELA

Caracas

Delta Force

Nicholas Maduro