’بھارت اپنے پریشان کن ریکارڈ سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے‘: جے شنکر کے بیان پر پاکستان کا ردعمل
دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پاکستان کے بارے میں حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنی اندرونی اور علاقائی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔
طاہر اندرابی نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا عالمی سطح پر دستاویزی ثبوت موجود ہے اور کمانڈر کلبھوشن یادو کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ بھارت منظم، ریاستی سطح پر دہشت گردی کے لیے پاکستان کے خلاف کام کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے سرحد پار قتل، پراکسی کے ذریعے حملے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ حمایت بھی ماضی کا حصہ ہیں، جو ہندوتوا نظریے اور اس کے پرتشدد حامیوں کے طرز عمل سے ہم آہنگ ہیں۔
انہوں نے بھارت کی غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
اس کے علاوہ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو بھروسے اور خاطرخواہ لاگت کے ساتھ طے پایا تھا اور بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی خطے میں استحکام کو نقصان پہنچائے گی، ساتھ ہی بھارت کی قانونی ذمہ داریوں کے دعوے کو مشکوک بنائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
واضح رہے کہ جمعہ کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو ”برا ہمسایہ“ قرار دیا تھا۔
انہوں نے گزشتہ سال ”آپریشن سندور” کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن کے تحت بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں “دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا“۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہمارے اچھے ہمسایہ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور معاہدے کے فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے“۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو مختلف نوعیت کے ہمسایہ ملے ہیں، جن میں اچھے یا کم نقصان دہ ہمسایہ بھی شامل ہیں، اور بھارت ان کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔















