آسٹریلوی کپتان اسٹیو اسمتھ نے ریٹائرمنٹ کی خبروں کو مسترد کر دیا
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان اسٹیو اسمتھ نے ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ تاحال بین الاقوامی کرکٹ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق ایشز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسمتھ نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کو دن بہ دن اور سیریز بہ سیریز دیکھ رہے ہیں۔
36 سالہ اسٹیو اسمتھ نے کہا کہ جب تک وہ ٹیم کے لیے مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، تب تک کھیل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ذہن میں فی الحال ریٹائرمنٹ کی کوئی تاریخ موجود نہیں۔
عثمان خواجہ کی ریٹائرمنٹ اور تجربہ کار اسپنر نیتھن لیون کے انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہونے کے بعد اسٹیو اسمتھ اور اسکاٹ بولینڈ آسٹریلوی اسکواڈ کے سب سے سینئر کھلاڑی ہوں گے۔
اس حوالے سے اسمتھ نے کہا کہ ٹیم کے لیے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ایک ہی وقت میں دو تجربہ کار کھلاڑی ٹیم چھوڑ دیں، اسی لیے وہ کھیل جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔
اسٹیو اسمتھ نے عثمان خواجہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 15 برسوں سے ایک ہی انداز میں سخت محنت کرتے آئے ہیں اور ان کا کیریئر قابلِ فخر رہا ہے۔ تاہم اسمتھ نے عثمان خواجہ کی جانب سے لگائے گئے نسلی تعصب کے الزامات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ پراتھ ٹیسٹ سے قبل گالف کھیلنے اور بعد ازاں انجری کا شکار ہونے پر عثمان خواجہ کو جس طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیا، وہ غیر منصفانہ تھا۔
اسمتھ کے مطابق خواجہ برسوں سے اسی معمول پر عمل کرتے آئے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ وابستگی پر سوال اٹھانا درست نہیں تھا۔
ایشز کے آخری ٹیسٹ کے لیے ٹیم کمبینیشن پر بات کرتے ہوئے اسٹیو اسمتھ نے کہا کہ سڈنی کی پچ دیکھنے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ٹیم میں آل راؤنڈرز، اسپنر یا بغیر اسپنر کے میدان میں اترنے سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں۔
واضح رہے کہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی ایشز سیریز میں آسٹریلیا کو 3-1 کی برتری حاصل ہے۔ پرتھ اور برسبین میں شاندار فتوحات اور ایڈیلیڈ میں کامیابی کے بعد آسٹریلیا نے ایشز اپنے نام کر لی تھی، تاہم میلبرن میں انگلینڈ نے 15 سال بعد آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ جیت کر واپسی کی۔
اسٹیو اسمتھ نے کہا کہ اگرچہ ایشز سیریز کا نتیجہ طے ہو چکا ہے، لیکن ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس کے باعث آخری ٹیسٹ کی اہمیت برقرار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی کوشش ہوگی کہ سیریز 4-1 سے جیتی جائے اور عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں مضبوط پوزیشن حاصل کی جائے۔














