سوئٹزرلینڈ کے ریزورٹ میں لگی آگ کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

واقعے کے عینی شاہدین کے بیانات دل دہلا دینے والے ہیں۔
اپ ڈیٹ 03 جنوری 2026 09:48am

سوئٹزرلینڈ کے مشہور اسکی ریزورٹ کرانس مونٹانا میں نئے سال کی رات ایک بار میں لگنے والی خوفناک آگ نے جشن کو المیے میں بدل دیا تھا۔ لی کانسٹیلیشن نامی بار میں آگ بھڑکنے کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 119 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں سے بڑی تعداد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں جو نئے سال کا جشن منانے کے لیے وہاں موجود تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے بتایا کہ سوئس حکام کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ کئی افراد کو شدید جھلسنے کے باعث یورپ کے مختلف ممالک کے خصوصی برن یونٹس منتقل کرنا پڑا۔ والیس علاقے کے سربراہ میتھیاس رینارڈ نے میڈیا کو بتایا کہ تقریباً 50 زخمیوں کو یا تو منتقل کیا جا چکا ہے یا جلد کیا جائے گا، جن میں جرمنی اور فرانس کے اسپتال بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی زخمی ابھی بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آگ ممکنہ طور پر پارٹی کے دوران استعمال ہونے والی اسپارکلر یا فاؤنٹین کینڈلز کی وجہ سے لگی جو شیمپین کی بوتلوں کے ساتھ جلائی جا رہی تھیں۔

مقامی پراسیکیوٹر بیٹریس پیلود کے مطابق یہ جلتی ہوئی اشیاء چھت کے بہت قریب لے جائی گئیں، جس کے بعد آگ نے تیزی سے پورے بار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مفروضہ مضبوط ہے مگر حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ تفتیش میں یہ پہلو بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا چھت میں استعمال ہونے والا انسولیشن فوم آگ کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بنا۔

آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکام کے مطابق کئی لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت میں وقت لگے گا۔

پولیس چیف فریڈرک گسلر نے بتایا کہ اب تک 113 زخمیوں کی شناخت ہو چکی ہے جن میں اکثریت سوئس شہریوں کی ہے، جبکہ فرانس، اٹلی، سربیا، بوسنیا، بیلجیم، پولینڈ، پرتگال اور لکسمبرگ کے شہری بھی شامل ہیں۔

واقعے کے عینی شاہدین کے بیانات دل دہلا دینے والے ہیں۔

ایک نوجوان ایکسل نے بتایا کہ وہ اس وقت تہہ خانے میں تھا جہاں آگ شروع ہوئی۔

اس نے کہا کہ دھواں اتنا زیادہ تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا اور سانس لینا مشکل ہو گیا تھا۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے ایک میز الٹ کر اس کے پیچھے پناہ لی اور پھر کھڑکی توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔

ایکسل کے مطابق باہر نکلنے کا صرف ایک دروازہ تھا جو اتنے زیادہ لوگوں کے لیے بہت تنگ ثابت ہوا۔

ہلاک ہونے والوں میں سب سے پہلے ایک 16 سالہ اطالوی بین الاقوامی گالفر کی شناخت کی گئی جو دبئی میں رہائش پذیر تھا۔

اطالوی گالف فیڈریشن نے اس کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت نوجوان تھا جس میں کھیل کے ساتھ مثبت اقدار بھی شامل تھیں۔

حادثے کے بعد لاپتہ نوجوانوں کے اہل خانہ اور دوست شدید صدمے میں مبتلا ہیں۔

اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بتایا کہ 13 اطالوی شہری اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ چھ لاپتہ ہیں۔ فرانس کے سفارت خانے کے مطابق آٹھ فرانسیسی شہریوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا جبکہ نو زخمی ہیں۔

بار کے باہر ایک عارضی یادگاری مقام قائم کر دیا گیا ہے جہاں لوگ پھول رکھ رہے ہیں اور موم بتیاں جلا کر مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

کئی نوجوانوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ بھی اسی بار جانے والے تھے مگر کسی وجہ سے نہ جا سکے، اور اب اس سانحے کو دیکھ کر شدید صدمے میں ہیں۔

یہ حادثہ سوئٹزرلینڈ کی حالیہ تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ آیا کسی کی غفلت اس المیے کا سبب بنی اور کیا کسی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

فی الحال ملک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور یورپ بھر میں اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

switzerland

Crans Montana

Le Constellation