یمن کا فوجی مقامات واپس لینے کے لیے پُرامن کارروائی کا اعلان

کارروائی صرف فوجی ٹھکانوں تک محدود ہوگی، جنگ کا اعلان نہیں، گورنر حضرموت
شائع 02 جنوری 2026 03:14pm

یمن کے صوبے حضرموت کے سعودی حمایت یافتہ گورنر نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں فوجی مقامات واپس لینے کے لیے ایک پُرامن کارروائی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف فوجی ٹھکانوں تک محدود ہوگا اور اسے جنگ کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس جنگ زدہ ملک میں مختلف دھڑوں کی حمایت کر رہے ہیں اور دسمبر سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یمنی حکومت نے حضرموت کے گورنر سالم احمد سعید الخنباشی کو مشرقی صوبے میں ’ہوم لینڈ شیلڈ‘ فورسز کا کمانڈر تعینات کر دیا ہے، جس کے تحت انہیں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی معاملات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صوبے میں امن و امان بحال کرنا ہے۔

گورنر کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف ان فوجی مقامات کے دفاع اور واپسی تک محدود رہے گی جن پر متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے قبضہ کیا تھا۔ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے حال ہی میں جنوبی یمن کے کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جسے سعودی حمایت یافتہ حکومت نے اپنے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ یمن سے اپنی باقی افواج واپس بلا رہا ہے، اس سے قبل سعودی عرب نے 24 گھنٹوں کے اندر فورسز کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے اب تک حضرموت کے گورنر کے بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

اسی دوران تنازع کا ایک اور رخ سامنے آیا جب عدن ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بند ہو گیا۔ سعودی سفیر کے مطابق سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے ایک سعودی وفد لے کر آنے والے طیارے کو عدن میں اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ مملکت کئی ہفتوں سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر تعاون نہ مل سکا۔

دوسری طرف سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے زیر انتظام ٹرانسپورٹ وزارت نے الزام لگایا کہ سعودی عرب نے اضافی جانچ کے نام پر تمام پروازوں کو سعودی عرب کے ذریعے گزارنے کی شرط عائد کر کے دراصل فضائی ناکہ بندی کر دی ہے۔

عدن کا بین الاقوامی ہوائی اڈا یمن کے ان علاقوں کے لیے اہم مرکز ہے جو حوثیوں کے کنٹرول سے باہر ہیں، اور پروازوں کی بندش سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔

yemen

Military

peaceful