سوئٹزرلینڈ: اسکی ریزورٹ میں دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 47 ہوگئی

سوئس صدر گی پارملین نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ جو لمحہ خوشی کا ہونا تھا، وہ پورے ملک کے لیے سوگ میں بدل گیا۔
شائع 02 جنوری 2026 09:27am

سوئٹزرلینڈ کے مشہور اسکی ریزورٹ کرانس مونٹانا میں نئے سال کی تقریب کے دوران ایک بار میں ہونے والے دھماکے اور آگ لگنے سے تقریباً 47 افراد ہلاک اور 100 زائد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک شیمپین بوتل پر لگائی گئی شمعیں چھت کے قریب آگئیں اور اچانک دھماکا ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی افراد کے جسم پہچاننے کے قابل بھی نہ رہے۔

امریکی خبر رساں ادارے نیویارک پوسٹ کے مطابق نائٹ کلب میں سالِ نو کی تقریب جاری تھی اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عملہ جلتی ہوئی شیمپین بوتلیں اٹھا کر لے جا رہا تھا، جو لکڑی کی نیچی چھت سے بار بار ٹکرا رہی تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ بجے رات اچانک آگ بھڑک اٹھی اور چند ہی لمحوں میں پورا تہہ خانہ لپیٹ میں آگیا۔ وہاں موجود درجنوں افراد ایک ہی سیڑھی والے باہر جانے کے راستے کی طرف بھاگے جس سے بدحواسی مزید بڑھ گئی۔

حکام کے مطابق آگ لگنے کے واقعے میں کم از کم 115 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ استغاثہ نے بتایا کہ آگ لگنے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم اب تک شواہد کے مطابق یہ واقعہ دہشت گردی یا کسی مجرمانہ کارروائی کا نتیجہ نہیں لگتا بلکہ بظاہر ایک حادثہ ہے۔

جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیمیں عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کر رہی ہیں اور شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق مختلف ملکوں سے ہو سکتا ہے اور بیرونِ ملک کی حکومتیں سوئس حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ اپنے لاپتا شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔

اطالوی حکام نے بتایا کہ 16 اطالوی شہری تاحال لاپتا ہیں جبکہ 15 زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ فرانس کے وزارت خارجہ کے مطابق کم از کم آٹھ فرانسیسی شہریوں سے بھی رابطہ تاحال بحال نہیں ہو سکا۔ فرانس کے فٹبال کلب ایف سی میتز نے تصدیق کی کہ اس کا 19 سالہ کھلاڑی تاہیریس ڈوس سانتوس اس واقعے میں بری طرح جھلس گیا اور اسے جرمنی کے ایک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت میں وقت لگے گا کیونکہ کئی لاشیں شدید حد تک جل گئی ہیں اور ڈی این اے اور دانتوں کے ریکارڈ کی مدد سے شناخت کی جا رہی ہے۔ سوئٹرزلینڈ کے برن سینٹرز میں گنجائش ختم ہونے پر کئی شدید زخمیوں کو ہمسایہ ملکوں کے اسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا۔

آتشزدگی کے بعد علاقہ سوگوار ہے۔ سینکڑوں افراد متاثرہ نائٹ کلب کے قریب جمع ہوئے، پھول رکھے اور لاپتا رشتہ داروں کے بارے میں خبریں ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ سوئس صدر گائے پارمَلین نے اسے ملک کی بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ زیادہ تر متاثرین نئے سال کا جشن منانے آئے نوجوان تھے۔ برطانوی بادشاہ چارلس نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا۔

کریانس مونتانا کا یہ ریزورٹ عام طور پر سیاحوں سے بھرا رہتا ہے اور آئندہ سال یہاں عالمی اسکی چیمپئن شپ منعقد ہونی ہے۔ اب یہی علاقہ اس آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد سوگ اور غم کی فضا میں ڈوبا ہوا ہے، جبکہ تفتیشی ادارے حتمی رپورٹ کے لیے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔