ڈاکٹرز کا انوکھا کارنامہ: زندہ نومولود کا ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کردیا

لواحقین نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد بچے کے زندہ ہونے کی تصدیق کر دی
اپ ڈیٹ 01 جنوری 2026 12:56pm

نئے سال کی آمد پر ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی کے ڈاکٹرز نے انوکھا  کارنامہ انجام دیتے ہوئے دو دن کے زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا، لواحقین نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد بچے کے زندہ ہونے کی تصدیق کر دی۔

روبینہ نامی خاتون کے ہاں گزشتہ روز ہولی فیملی اسپتال میں بچے کی پیدائش ہوئی، جس کی حالت تشویشناک تھی۔ ڈاکٹروں نے عجلت میں بچے کو مردہ قرار دیتے ہوئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، جس میں واضح طور پر درج تھا کہ میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر طیبہ صدف کی مہر اور دستخط موجود ہیں۔

والدین کے مطابق جب انہوں نے بچے کو وصول کیا تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ آکسیجن ماسک کے ساتھ سانس لے رہا تھا۔ اس پر بچے کو دوبارہ طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا جہاں اس کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوئی اور اسے آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔

والدین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے عجلت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس پر ڈاکٹر کی مہر اور دستخط بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں آکسیجن ماسک لگے بچے کو سانس لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد معاملہ زیرِ بحث آ گیا۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو یہ جائزہ لے گی کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کس بنیاد پر جاری کیا گیا اور عملے سے کہاں غلطی ہوئی۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق بچے کا علاج جاری ہے اور اس کی حالت سے متعلق اہل خانہ کو مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ اسپتال حکام نے کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

rawalpindi

doctors

Death certificate

NEWBORN