بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک

حکومت کا تین روزہ سوگ، کئی روز سے وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج تھیں
اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2025 07:48pm

بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو ڈھاکہ میں ان کے شوہر اور سابق صدر ضیاء الرحمان کی قبر کے پہلو میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ اور تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کی گئی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

تدفین کے بعد خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان نے والدہ کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ جس کے بعد وہ اور دیگر اہلِ خانہ اپنی رہائش گاہ روانہ ہو گئے۔

خالدہ ضیا کا جسدِ خاکی قومی پرچم میں لپٹی ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے بدھ کو دوپہر کے وقت مانِک میا ایونیو پہنچایا گیا، جہاں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں ڈھاکا کے علاقے شیرِ بنگلہ نگر میں واقع ضیا اُدیان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کر دیا گیا۔

جنازے کے موقع پر قومی اسمبلی کمپلیکس کے اندرونی و بیرونی حصوں اور مانِک میا ایونیو کے طویل حصے پر لوگوں کا ہجوم موجود تھا۔ جنازہ گاہ اور اطراف کی سڑکوں پر لوگوں کا سمندر امڈ آیا تھا، جو اپنی رہنما کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس بھی جنازہ گاہ میں موجود تھے، جبکہ پاکستان کی نمائندگی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کی، جو پاکستان کی جانب سے تعزیت اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر شریک ہوئے۔

بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ عوام کی سہولت کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے تھے، تاہم تدفین کے وقت سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر قبرستان میں داخلہ صرف مجاز افراد تک محدود رکھا گیا۔

نمازِ جنازہ دوپہر تین بجے ادا کی گئی، جس کے بعد خالدہ ضیا کو سہ پہر ساڑھے تین بجے کے قریب پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سابق صدر اور ان کے شوہر شہید ضیاء الرحمٰن کی قبر کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

تدفین میں خالدہ ضیا کے اہلِ خانہ، اعلیٰ سرکاری شخصیات، حکومتی نمائندے، غیر ملکی سفارت کار، سفیروں اور بی این پی سے وابستہ سینئر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس موقع پر شیرِ بنگلہ نگر کے علاقے ضیا ادیان میں عوامی نقل و حرکت محدود رکھی گئی تاکہ تدفین کا عمل پُرامن اور منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے۔

خالدہ ضیا بنگلادیش کی سیاست میں ایک مضبوط اور بااثر شخصیت کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ وہ دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم رہیں اور کئی دہائیوں تک ملکی سیاست کا اہم مرکز بنی رہیں۔

ان کا سیاسی سفر فوجی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد، جمہوریت کی بحالی اور سخت سیاسی مقابلوں سے عبارت رہا۔ ان کے انتقال پر نہ صرف بنگلادیش بلکہ دنیا بھر میں موجود ان کے حامیوں اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔