بنگلہ دیش کے انقلابی رہنما عثمان ہادی ڈھاکا یونیورسٹی کے احاطے میں سپردِ خاک

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سمیت دیگر شخصیات نمازِ جنازہ میں شریک تھیں۔
اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2025 06:40pm

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے پریس ونگ نے اعلان کیا ہے کہ انقلاب منچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی نماز جنازہ ہفتے کے روز قومی پارلیمنٹ بلڈنگ کے جنوبی پلازہ میں ادا کردی گئی۔ عثمان ہادی کے انتقال پر بنگلہ دیش میں سوگ منایا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق انقلاب منچا نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ خاندان کی خواہش کے مطابق شریف عثمان ہادی کو ڈھاکا یونیورسٹی کے احاطے میں قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کی قبر کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

اس موقع پر بنگلادیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس، وی سی (ڈھاکا یونیورسٹی) پروفیسر نیاز احمد خان، سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے نائب صدرابو صادق قائم، انقلاب منچا کے رہنماؤں سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں۔

پارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہادی کی لاش کی عوامی نمائش نہیں ہوگی اور عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ان کے لیے دعا کریں۔

رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کمپلیکس اور اس کے اطراف میں بھاری تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور پورے علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔

اس دوران عبوری حکومت کی اجنب سے علاقے میں ڈرون پرواز پر بھی پابندی عائد کی گئی اور جنازہ میں شرکت کے خواہش مند افراد سے درخواست کی گئی کہ وہ کوئی بیگ یا بھاری سامان ساتھ نہ لائیں۔

عثمان ہادی گزشتہ برس طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے، جس کے نتیجے میں سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت برطرف ہوئی تھی۔ وہ بنگلہ دیش میں ہونے والے 12 فروری کے عام انتخابات کے لیے بھی امیدوار تھے۔

12 دسمبر کو ڈھاکا میں انتخابی سرگرمی کے دوران ہادی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ وہ آٹو رکشے میں سفر کر رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے قریب آ کر ان کے سر پر گولیاں مار دیں۔

واقعے کے بعد انہیں فوری طور پر ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے دماغی تنوں کو شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی تھی۔

15 دسمبر کو بہتر علاج کے لیے انہیں سنگاپور جنرل اسپتال کے نیورو سرجیکل آئی سی یو منتقل کیا گیا، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود وہ 19 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

Bangladesh

Dhaka

Funeral

Sharif Osman Hadi