آکسفورڈ یونین بحث سے بھارت کے راہِ فرار پر خواجہ آصف کا طنز
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی قیادت پر آکسفورڈ یونین میں مجوزہ مباحثے سے گریز کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ مودی اپنے پینل میں راج ناتھ اور امیت شاہ کو بھیج سکتا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ‘ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ”دو مخالفین کی بحث کے لیے آکسفورڈ یونین سے زیادہ معتبر پلیٹ فارم ہو ہی نہیں سکتا۔“
خواجہ آصف نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکہا کہ شاید مودی کو اس مباحثے کے لیے تشکیل دیے گئے بھارتی پینل پر اعتماد نہیں تھا۔ انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی اپنے پینل میں راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ کو بھی بھیج سکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ دونوں ‘آپریشن سندور’ والی کارکردگی دوبارہ دکھا سکتے تھے“
ادھر بھارت نے تاحال وزیرِ دفاع کے تازہ بیان پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
خواجہ آصف نے بین الااقوامی اسکالر اور دفاعی تجزیہ کار احمد حسن العربی کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ردِ عمل دیا، احمد حسن العربی نے لکھا کہ یہ صرف مودی نہیں ہے، بھارت کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت آپریشن سندور کی رسوائی کے بعد بین الاقوامی محافل میں شرکت سے گریز کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ بھارت کے سابق فوجی چیف اور دیگر مقررین بھی پاکستان کے خلاف آکسفورڈ یونین کے مباحثے سے پیچھے ہٹ گئے۔ بھارت عالمی سطح پر ایک رسوائی بن چکا ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے بڑے مباحثے میں پاکستانی طلبا نے بھرپور دلائل کے ساتھ میدان مارا ہے۔
ووٹنگ کے نتیجے میں پاکستانی وفد نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 106 ووٹ لیے، جبکہ بھارتی ٹیم صرف 50 ووٹ حاصل کر سکی۔ اس طرح پاکستانی طلبا نے دو تہائی اکثریت سے تاریخی فتح اپنے نام کی۔
یہ مباحثہ ایک اہم قرارداد پر منعقد ہوا جس کے مطابق ”بھارت کی پاکستان پالیسی دراصل عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمتِ عملی ہے، جسے سیکیورٹی پالیسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے“۔ پاکستانی طلبا نے اس قرارداد کا بھرپور دفاع کیا اور بھارتی نمائندوں کے دلائل کو منطق، قانون اور ٹھوس اعدادوشمار کی بنیاد پر چیلنج کیا۔













