کیا بچوں کو بھوک بڑھانے کی دوا دینا صحیح ہے؟

بچوں کا کھانے کے ساتھ تعلق اچھا بنانا ضروری ہے۔
شائع 29 نومبر 2025 02:40pm

بچوں میں بھوک کی کمی ایک عام مسئلہ ہے، بچے اکثر کم کھاتے ہیں، خاص طور پر زیادہ فعال یا متحرک رہنے والے بچے کھانوں سے دور بھاگتے ہیں، جس کی وجہ سے والدین مختلف طریقے آزمانا شروع کردیتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ بھوک بڑھانے والی ادویات کا استعمال ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی محفوظ ہے؟

بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر روی ملِک گپتا نے اس موضوع پر اہم وضاحت دی ہے اور بتایا ہے کہ بچوں کو بھوک بڑھانے والی دوا دینا کس طرح نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟

بچوں کو کامیاب اور قابل بنانے کا راز والدین کی تربیت میں پوشیدہ ہے

ڈاکٹر روی ملِک گپتا کے مطابق، ”انڈین اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس“ اور ”امریکن اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس“ دونوں ہی بچوں کو بھوک بڑھانے والی دوا دینے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی ادویات کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، یہ محض عارضی حل فراہم کرتی ہیں اور طویل مدت استعمال کرنےسے کئی سنگین سائیڈ افیکٹس یوسکتے ہیں۔ لہذا، والدین کو کبھی بھی بچوں کو بھوک بڑھانے والی کوئی دوا نہیں دینی چاہیے۔

پیڈریاٹریک ڈاکٹر کے مطابق، بھوک بڑھانے والی ادویات میں اکثر ”سائپروہپٹادین“ نام کی دوا شامل ہوتی ہے، جو بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس دوا کے استعمال سے بچوں کو سر درد، چڑچڑاپن، الجھن، اور ہلکے چکر آنا جیسے مسائل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کچھ بچوں کو اس دوا کے باعث الرجی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ ایسی دوا طویل مدت میں جگر کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

ڈاکٹر گپتا کی تجویز ہے کہ بھوک بڑھانے کے لیے قدرتی طریقے اپنائے جائیں، جو نہ صرف زیادہ محفوظ ہیں بلکہ بچے کے جسم کے لیے فائدہ مند بھی ہیں۔

وہ والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچے کے لیے متنوع اور مزیدار کھانے تیار کرنے کی کوشش کریں، تاکہ بچے کھانوں میں دلچسپی لیں۔ اس کے علاوہ، انہیں کھانے پر اصرار نہ کیا جائے اور نہ ہی زبردستی کی جائے، کسی چیز کا لالچ دے کر کھانا کھانے کی کوشش کرنا بھی بے فائدہ رہتا ہے۔

سائنس نے والدین کا ’سب بچے برابر‘ والا جھوٹ بے نقاب کردیا

بچوں کو کھانا کھاتے وقت ٹی وی یا فون سے دور رکھیں تاکہ وہ توجہ مرکوز کر کے کھا سکیں۔

ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ بچوں کا کھانے کے ساتھ تعلق اچھا بنانا ضروری ہے تاکہ وہ قدرتی طور پر صحت مند کھانے کی عادت اپنائیں اور دواؤں سے بچیں۔ بچے کو آرام دہ اور خوشگوار ماحول میں کھانا کھلائیں۔

AAJ News Whatsapp

بعض اوقات بچوں میں کم بھوک کا سبب نیند کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ بچے مناسب نیند لیں، تاکہ ان کی جسمانی ضروریات پوری ہو سکیں اور وہ کھانے میں دلچسپی دکھائیں۔

اگر بچے کی بھوک کی کمی مستقل مسئلہ بن جائے، تو والدین کو ماہر بچوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر مکمل جانچ کر بچے کی صحت کی مکمل تصویر فراہم کر سکتا ہے اور بھوک کی کمی کے پیچھے کی وجہ معلوم کر سکتا ہے۔

Side Effects

Child

medicine

pediatrician

increase appetite