ٹرمپ کا منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونڈورس کے سابق صدر کو معافی دینے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہونڈورس کے سابق صدر جوان اورلاندو ہرنینڈیز کو معافی دینے کے اعلان کے بعد خاندان نے اسے ’’انصاف کی بحالی‘‘ قرار دیتے ہوئے جذباتی ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق ہرنینڈیز کو 2022 میں ان کی مدتِ صدارت ختم ہونے کے بعد گھر سے گرفتار کرکے امریکا منتقل کیا گیا تھا۔ بعدازاں انہیں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے حوالگی پروگرام کے تحت امریکا بھیجا گیا۔ جہاں انہیںمنشیات اسمگلنگ کے مقدمے میں 45 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد ہرنینڈیز کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ انہوں نے ابھی کچھ ہی دیر پہلے ہرنینڈیز سے رابطہ کیا اور انہیں یہ خبر دی۔ ہرنینڈیز کی اہلیہ اینا گارسیا نے کہا ’وہ ابھی تک اس بات سے بے خبر تھے، اور یقین کریں جب ہم نے انہیں بتایا تو ان کی آواز جذبات سے بھر آئی۔‘
اینا گارسیا نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’ایک بڑی ناانصافی کو درست کیا ہے‘۔ اُن کے مطابق ہرنینڈیز کے خلاف مقدمہ ’منشیات فروشوں اور ریڈیکل لیفٹ‘ کی جانب سے انتقام پر مبنی سازش تھا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ہرنینڈیز کب واپس آئیں گے، تاہم ’ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں‘ واپسی ہو جائے گی۔
ہرنینڈیز کے وکیل ریناٹو سی اسٹیبیل نے بھی ٹرمپ کے فیصلے پر شکریہ ادا کیا اور کہا ’ایک بڑی ناانصافی کا ازالہ ہو گیا ہے، اور ہم امریکا اور ہونڈورس کے مستقبل کے تعلقات کے لیے پر امید ہیں۔ صدر ٹرمپ کا شکریہ، جنہوں نے یقینی بنایا کہ انصاف ہوا۔ ہم صدر ہرنینڈیز کی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔‘














