آئی ایم ایف نے بھارت کی غلط اعداد و شمار پر مبنی معیشت کو ’سی گریڈ‘ دے دیا

آئی ایم ایف کے مطابق بھارت کے معاشی ڈیٹا میں ایسے مسائل موجود ہیں جو معاشی نگرانی اور جائزہ لینے کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
شائع 29 نومبر 2025 09:29am

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھارت کے جی ڈی پی اور گراس ویلیو ایڈڈ جیسے اہم اشاریوں پر مشتمل قومی معاشی اعدادوشمار کو اپنی سالانہ رپورٹ میں دوسری کم ترین درجہ بندی یعنی ’سی گریڈ’ دیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ بھارت جو معاشی ڈیٹا دنیا کو دکھا رہا ہے اُس میں کئی کمزوریاں ہیں اور وہ مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔

سالانہ جائزے میں آئی ایم ایف نے کہا کہ اگرچہ بھارت باقاعدگی سے معاشی اعدادوشمار جاری کرتا ہے اور ان کی دستیابی وقت کے لحاظ سے مناسب ہے، مگر ان کے اجرا کے طریقہ کار میں اہم کمزوریاں موجود ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق، بھارت کے اپنی معیشت کو ناپنے کے طریقے ہیں پرانے زمانے کے مطابق ہیں۔ مثال کے طور پر، بھارت ابھی تک 2011-12 کے پرانے حسابی سال کے مطابق اپنا جی ڈی پی بناتا ہے، جبکہ دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔

یہ بالکل ایسے ہے جیسے آج کے دور میں مارکیٹ کا ریٹ 13 سال پرانی قیمتوں کے حساب سے لگایا جائے۔ ظاہر ہے پھر نتیجہ غلط آئے گا۔

بھارت اپنی قیمتوں اور مہنگائی کا حساب لگانے کے لیے وہ طریقہ استعمال کرتا ہے جو اب معیاری نہیں رہا۔ اس وجہ سے پتا ہی نہیں چلتا کہ اصل میں مہنگائی کتنی ہے اور معیشت کتنی بڑھ رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ بھارت پیداوار کی قیمت جانچنے کے لیے ضروری پروڈیوسر پرائس انڈیکس کے بجائے ہول سیل پرائس انڈیکس استعمال کرتا ہے، جس سے مہنگائی کو ناپنے اور حقیقی معاشی کارکردگی سمجھنے میں غلطیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سنگل ڈیفلیشن کے زیادہ استعمال سے بھی معاشی اعدادوشمار میں غلطیاں شامل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

بھارت کے کچھ معاشی اندازوں میں اتنا فرق آ جاتا ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ صحیح فگر کون سا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کو اپنے معاشی ڈیٹا کو بہتر اور زیادہ مکمل بنانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر غیر رسمی (informal) کاروباری شعبے کے بارے میں۔

رپورٹ کے مطابق کئی بار بھارت کے پیداواری اور اخراجاتی طریقہ کار سے حاصل شدہ تخمینوں میں واضح فرق سامنے آیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ اخراجاتی ڈیٹا اور غیر رسمی معاشی شعبے کی کوریج بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ بھارت کے معاشی ڈیٹا میں سیزنل ایڈجسٹمنٹ شامل نہیں، اور سہ ماہی معاشی رپورٹس تیار کرنے میں استعمال ہونے والی تکنیکیں بھی بہتری کی متقاضی ہیں۔

یعنی بھارت کو سہ ماہی معاشی رپورٹس بھی بہتر طریقے سے بنانی چاہئیں، کیونکہ ابھی ان میں وہ جدید طریقے استعمال نہیں ہو رہے جو دنیا بھر میں استعمال ہوتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ بھارت کو سرمایہ کاری کے اعدادوشمار، یعنی گراس فکسڈ کیپٹل فارميشن کو مزید تفصیل کے ساتھ جاری کرنا چاہیے تاکہ معاشی رجحانات کا گہرائی سے تجزیہ ممکن ہو سکے۔

دیگر شعبوں جیسے مہنگائی، مالیاتی نظام، حکومتی مالیات اور بیرونی شعبےکے لحاظ سے بھارت کو مجموعی طور پر ’بی گریڈ’ ملا ہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے لیے بھی بھارت کو ’بی‘ گریڈ دیا گیا، مگر یہاں بھی بیس ایئر اور اشیائے ضروریہ کی بیس پرانی ہونے کی وجہ سے اعدادوشمار موجودہ صارفین کی اصل خریداری کی عادات کو درست طور پر ظاہر نہیں کرتے۔

آئی ایم ایف نے بتایا کہ بھارت کے ڈیٹا سے متعلق مسائل گزشتہ سال کی درجہ بندی کے مقابلے میں تقریباً جوں کے توں ہیں۔ البتہ یہ تسلیم کیا کہ بھارت اپنے جی ڈی پی اور سی پی آئی کے بیس ایئر کو اپڈیٹ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور نئی سیریز 2026 کے اوائل یا وسط میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

IMF India rating

India GDP C grade

Consumer Price Index India

IMF report on India

India economic credibility