امریکا میں پناہ کی تمام درخواستیں روکنے کا حکم
واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ کے معاملے کے بعد امریکا نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کو ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔ اسائلم کی تمام درخواستوں سے متعلق فیصلے بھی روک دیے گئے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ملکی قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ادھر یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے روکنے کا اعلان کردیا ہے۔
یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ، پناہ (asylum) سے متعلق فیصلوں کو اس وقت تک روک دیا گیا ہے جب تک ہم یہ یقینی نہ بنا لیں کہ ہر غیر ملکی کی اسکریننگ مکمل طور پر نہیں ہوجاتی۔
واشنگٹن فائرنگ: امریکا کا گرین کارڈز سے متعلق سخت پالیسی کا اعلان
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں اسائلم کی درخواستوں کے لیے پہلے ہی سخت جانچ کے نظام موجود ہیں۔ ملک کے اندر سے یو ایس سی آئی ایس کے ذریعے دائر کی جانے والی پناہ کی درخواستیں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار رہی ہیں، جب کہ ناقدین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دوران اس سست روی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکی اٹارنی برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار شخص کے خلاف الزامات کو فرسٹ ڈگری مرڈر تک بڑھا دیا گیا ہے، کیونکہ بدھ کی سہ پہر وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ میں زخمی ہونے والی فوجی اہلکار سارہ بیکسٹرم دم توڑ گئی تھیں۔
تفتیش کار اب بھی اس حملے کے محرکات کی تلاش میں مصروف ہیں۔ افغان شہری کی فائرنگ سے ایک نیشنل گارڈ ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہوا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ تیسری دنیا کے تمام ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روک دی گے، ایسے پناہ گزینوں کی قانونی شہریت منسوخ کر دیں گے جو داخلی امن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔














