ناسا کی خلاء باز نے خلاء سے ’جیلی فش اسپرائٹ‘ کی نایاب تصویر کھینچ لی
ناسا کی خلا باز نکول ایئرز نے خلا سے جیلی فش اسپرائٹ کی نایاب تصویر کھینچ لی۔
نکول ایئرز نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ایک غیر معمولی اور دل دہلا دینے والے قدرتی مظہر کی تصویر لی ہے، ایک دیو قامت، سرخ رنگ کی بجلی کی چمک جسے اسپرائٹ کہا جاتا ہے، جو خلاء سے بالکل جیلی فش کی مانند دکھائی دیتی ہے۔
یہ منظر اسی سال 3 جولائی کو شدید طوفان کے دوران میکسیکو اور امریکی ریاستوں کیلیفورنیا و ٹیکساس کے اوپر نمودار ہوا ، اسپرائٹس سرخ رنگ کے بجلی جیسے مظاہر ہوتے ہیں جو زمین سے آسمان کی طرف لپکتے ہیں ، ان کی شکل بعض اوقات جیلی فش جیسی لگتی ہے، ان سے کئی روشن شاخیں نیچے کی طرف پھیلتی ہیں اور کبھی کبھی یہ گاجر جیسی دکھتی ہیں جب ان کی روشنی دھندلی ہو۔
ناسا کی مشہور خلا باز نکول ایئرز نے خلا سے ایک نایاب اور دل دہلا دینے والے قدرتی مظہر ’جیلی فش اسپرائٹ‘ کی منفرد تصویر کھینچی ہے۔ یہ شاندار منظر تین جولائی کو شدید طوفان کے دوران میکسیکو اور امریکی ریاست کیلیفورنیا و ٹیکساس کے آسمانوں پر نمودار ہوا۔
اسپرائٹس، جو سرخ رنگ کی بجلی کی چمک ہوتی ہے، زمین سے آسمان کی طرف لپکتی ہے اور ان کی شکل اکثر جیلی فش کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ اس غیر معمولی مظہر میں کئی روشن شاخیں نیچے کی جانب پھیلتی ہیں، اور بعض اوقات ان کا رخ گاجر کی طرح بھی لگتا ہے جب روشنی کمزور ہو۔
اسپرائٹس پہلی بار 1950ء کی دہائی میں ہوائی جہاز کے مسافروں نے دیکھے تھے، لیکن ان کی پہلی واضح تصویر 1989ء میں لی گئی۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔