ٹرمپ انتظامیہ کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے حماس کی حمایت کرنے والے طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ
امریکا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے حماس کے حامی غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ پالیسی پہلے ہی ایک طالب علم پر لاگو کی جا چکی ہے، جس کا ویزا مبینہ طور پر حماس کے حامی مظاہرے میں شرکت پر منسوخ کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکہ میں سام دشمنی سے نمٹنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں۔ اس حکم کا مقصد یہودی امریکیوں، خاص طور پر طلباء کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جنھیں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں کے دوران دھمکیاں، توڑ پھوڑ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کوشش کے ایک حصے کے طور پر، ٹرمپ نے غیر شہری کالج کے طلباء اور ان مظاہروں میں حصہ لینے والے دیگر افراد کو ملک بدر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جن کا تعلق حماس کے حامی اور یہود مخالف سرگرمیوں سے ہے۔ یہ حکم محکمہ انصاف کو امن و امان کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرنے، یہودی مخالف نسل پرستی کی تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کو سزا دینے کی ہدایت بھی کرتا ہے۔
ٹرمپ نے امریکا کو بٹ کوائن کا کیپیٹل بنانے کیلئے ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا
امریکی میڈیا کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ محکمہ انصاف اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ امریکا دہشت گردوں کے حامی غیر ملکی زائرین کے خلاف صفر ٹالرنس پالیسی اپنائے گا اور بین الاقوامی طلبہ سمیت قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔
وکیلوں کو خدشہ ہے کہ نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال غلطیاں، غلط شناخت اور رازداری کی خلاف ورزیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کی روس پر پابندیاں اور ٹیرف لگانے کی دھمکی
ایگزیوس کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ’کیچ اینڈ ریوینٹ‘ مہم کے تحت ہزاروں طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی کی جائے گی تاکہ اسرائیل مخالف مظاہروں اور یہودی طلبہ کے خلاف مبینہ نفرت انگیز بیانات کا تجزیہ کیا جا سکے۔
امریکی عرب انسداد امتیاز کمیٹی کے مطابق یہ اقدام آزادیٔ اظہار اور رازداری کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے جبکہ ناقدین کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات پر کوئی واضح اقدام نہیں کیا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔