کھانا اُلٹ گیا، سوئمنگ پول اُمڈ گیا، تفریحی بحری جہاز خوفناک سمندری لہروں کا شکار
نیوزی لینڈ کے قریب میل فورڈ ساؤنڈ سے گزرنے والا لگژری کروز شپ ”کراؤن پرنسس“ 25 فروری کو شدید طوفانی لہروں کی زد میں آگیا، جس کے نتیجے میں 16 افراد زخمی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق، جہاز 14 ڈگری تک جھک گیا، جس کے باعث مسافروں اور عملے میں افراتفری مچ گئی۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں باورچی خانے کے عملے کو کاؤنٹرز سے چمٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فرش پر کھانے کی اشیاء اور ٹوٹے ہوئے برتن بکھرے ہوئے تھے۔
ایک مسافر نے خوفناک تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں جب اچانک ”افراتفری“ پھیل گئی۔
ایک اور مسافر نے بتایا، ’مجھے لگا کہ جہاز جھک رہا ہے، پھر یہ کافی حد تک ٹیڑھا ہوگیا اور تیزی سے حرکت کرنے لگا۔ ہم نے ریستوران کی کھڑکیوں سے سمندر کو غیر معمولی طور پر بلند ہوتا دیکھا۔‘
ایک اور مسافر نے کہا کہ وہ جہاز پر روزانہ کی ورزش کر رہے تھے جب اچانک انہیں خود کو سنبھالنے کے لیے کسی چیز کو پکڑنا پڑا۔ انہوں نے کہا، ’میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ اچانک جہاز ایک طرف جھک گیا۔ ٹیبلز اور کرسیاں ایک جانب کھسکنے لگیں، اور ایک لڑکی اپنی کرسی سمیت پھسل کر سوئمنگ پول کی طرف چلی گئی۔‘
اس حادثے میں 13 مسافر اور 3 عملے کے افراد معمولی زخمی ہوئے۔
کروز کمپنی کا بیان
پرنسس کروز نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”کراؤن پرنسس“ ایک راستہ تبدیل کرنے کے دوران تیز ہواؤں کی زد میں آگیا، جس کے نتیجے میں جہاز معمول سے زیادہ جھک گیا، تاہم جلد ہی مستحکم ہوگیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ لیدو ڈیک پول سے پانی بہہ کر ایک ڈائننگ ایریا میں داخل ہوگیا، مگر اسے جلد ہی صاف کر دیا گیا۔ کچھ دکانوں اور گلیوں میں سامان شیلف سے گر گیا، لیکن کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
کمپنی نے تصدیق کی کہ جہاز کو کسی ساختی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور عملے نے فوری طور پر صورتحال کو قابو میں کر لیا۔ انہوں نے مسافروں کو یقین دلایا کہ ان کی حفاظت کو کبھی خطرہ لاحق نہیں ہوا اور سفر شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔
جہاز کا سفر جاری
3,090 مسافروں کی گنجائش رکھنے والا ”کراؤن پرنسس“ معمول کے مطابق اپنی منزل کی جانب روانہ رہا۔ حادثے کے وقت یہ 14 روزہ سفر کے تیسرے دن میں تھا، جو سڈنی سے شروع ہوا تھا اور 8 مارچ کو مکمل ہوگا۔ کروز میپر کے مطابق، یہ جہاز نیوزی لینڈ کے گرد چکر لگانے کے بعد آسٹریلیا واپس پہنچے گا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔