متحدہ عرب امارات میں خاتون کو بچی کے قتل کے جرم میں پھانسی دیدی گئی
متحدہ عرب امارات میں بھارتی خاتون کو بچی کے قتل کے جرم میں پھانسی دیدی گئی۔
متحدہ عرب امارات میں بھارتی ریاست اترپردیش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو بچی کے قتل کے جرم میں پھانسی دیدی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش کے بندہ ضلع سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ شہزادی خاتون کو ابوظہبی میں ایک چارماہ کی بچی کے قتل کے الزام میں پھانسی دیدی گئی۔خاتون شہزادی خان یو اے ای میں سزائے موت کا سامنا کر رہی تھیں۔
وزارت خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب شہزادی خان کے والد شبیر خان نے عدالت سے اپنی بیٹی کی موجودہ قانونی حیثیت اور خیریت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی درخواست کی۔
بھارتی وزیر خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ شہزادی خان کو 15 فروری 2025 کو یو اے ای کے قوانین اور ضوابط کے تحت پھانسی دی گئی۔
ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل (اے ایس جی) چییتن شرما نے کہا کہ بھارتی سفارت خانے کو یو اے ای میں شہزادی خان کی پھانسی کے بارے میں حکومت کو 28 فروری کو ایک سرکاری اطلاع موصول ہوئی۔
واضح رہے کہ شہزادی خان ابو ظہبی کی ال وتبہ جیل میں قید تھیں اور انہیں اس بچی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جو ان کی نگرانی میں تھی۔
شبیر خان کی درخواست کے مطابق، ان کی بیٹی دسمبر 2021 میں قانونی ویزہ حاصل کرنے کے بعد ابوظہبی گئی تھی۔
اگست 2022 میں اس کے مالکن نے ایک بیٹے کو جنم دیا جس کے لیے شہزادی خان کو نگہداشت کرنے والی کے طور پر ملازمت دی گئی تھی۔ شیرخوار بچہ 7 دسمبر 2022 کو معمول کی ویکسینیشن کے بعد انتقال کر گیا۔
درخواست میں ایک ویڈیو ریکارڈنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خان نے دسمبر 2023 میں شیرخوار کے قتل کا اعتراف کیا۔
تاہم درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اعتراف تشدد اور بدسلوکی کے ذریعے اس کے آجر اور ان کے خاندان نے اس سے حاصل کیا تھا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔