بھارتی چیف جسٹس کے والد نے انہیں ریٹائرمنٹ تک چھوٹا سا فلیٹ بیچنے سے منع کیوں کیا؟

ڈی وائے چندر چوڑ کے والد کا کہنا تھا جب اخلاقیات کا سوال اتھے تو سر پر ایک چھت تو ہونی ہی چاہیے۔
شائع 12 نومبر 2024 07:35am

بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائے چندر چوڑ حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشین کی طرف سے منعقد کی جانے والی الوداعی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس ڈی وائے چندر چوڑ نے اپنے والد سابق چیف جسٹس وائے وی چندر چوڑ سے مہاراشٹر کے شہر پونے میں واقع چھوٹے سے فلیٹ کے بارے میں کی جانے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا۔

جسٹس ڈی وائے چندر چوڑ نے بتایا کہ میں نے اُن سے پوچھا کہ پونے میں ایک چھوٹا سا فلیٹ کیوں خرید رہے ہیں۔ کیا اُس میں رہنے کا ارادہ ہے؟ اس پر انہوں نے کہا میں جانتا ہوں میں اس فلیٹ میں کبھی نہیں رہوں گا مگر میں چاہوں گا کہ تم اپنے کریئر کے دوران اس فلیٹ کو اپنے پاس رکھنا۔ اس کی توضیح یہ کی کہ اگر کبھی ایسا لگے کہ اخلاقی بنیاد داؤ پر لگ رہی ہے تو کم از کم ایک چھت تو سر کے اوپر ہونی ہی چاہیے۔ اور ایسا اس لیے ہے کہ میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس اپنا کوئی گھر یا فلیٹ نہیں ہے۔

جسٹس ڈی وائے چندر چوڑ کا کہنا ہے کہ میرے والد غیر معمولی ڈسپلن والے انسان تھے مگر انہوں نے ہمیں ڈسپلن سکھانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم انہیں دیکھیں اور خود ہی سیکھ جائیں جو سیکھنا ہے۔

جسٹس ڈی وائے چندر چوڑ کی فیملی بھی تقریب میں موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں جب میں بہت بیمار رہتا تھا تب میری ماں رات رات بھر میرے لیے جاگتی رہتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں ہم نے تمہارا نام دھننجے رکھا مگر ہم جانتے ہیں کہ دھن اس دنیا کی دولت کا نام نہیں۔ علم و حکمت ہی دھن ہے اور اِسی کے حصول کی فکر انسان کو لاحق رہنی چاہیے۔