بھارت میں ہندو مسلم فساد، ایک ہلاک، 30 گرفتار

قصورواروں کو معاف نہیں کیا جائے گا، وزیر اعلی اتر پردیش کا بیان
اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2024 04:44pm
تصویر بشکریہ بھارتی میڈیا
تصویر بشکریہ بھارتی میڈیا

بھارتی ریاست اتر پردیش کے بہرائچ کے ایک گاؤں میں ہندو مسلم فساد نے جنم لیا، درگا مورتی وسرجن جلوس کے دوران موسیقی بجانے پر دو گروپوں کے درمیان شدید تصادم ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں کشیدہ صورت حال پیدا ہوگئی اور مشتعل ہجوم نے کئی گاڑیوں کو آگ لگانا شروع کردیا جس کے بعد پولیس نے صورت حال کو قابو کرنے کے لیے ایکشن لیا۔

بہرائچ پولیس نے کم از کم 30 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کو گھروں، دکان سے جلوس پر گولیاں برسانے کے شواہد ملے جس کے بعد انہوں نے سلمان نامی شخص کو گرفتار کرلیا۔

اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

گجرات کے بعد کرناٹک میں بھی مسلم کش فساد کی سازش

اس حوالے سے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ بہرائچ کے مہسی ضلع میں امن و امان کی صورت حال پیدا کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ہر ایک کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا ہے، اور حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فسادیوں اور ہر اس شخص کے خلاف سخت کارروائی کریں جس کی لاپروائی نے اس واقعے میں تعاون کیا ہے۔“

پولیس کے مطابق جلوس میں شریک رام گوپال مشرا گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا۔