چھڑی کی مدد سے چہل قدمی صحت کے لیے فوائد دُگنے کرنے کی ضامن
دنیا بھر میں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو اپنی عمومی صحت کا معیار بلند رکھنے کے لیے باقاعدگی سے چہل قدمی کرنی چاہیے۔
چہل قدمی سے انسان کے جسم کو مطلوبہ تحرک ملتا ہے اور وہ صبح کے وقت کی جانے والی چہل قدمی کے نتیجے میں دن بھر چُستی اور پُھرتی محسوس کرتا ہے۔
آج کل نارڈک واک یعنی چھڑی یا چھڑیوں کی مدد سے کی جانے والی چہل قدمی بھی تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ اس نوعیت کی چہل قدمی دل کی حالت بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح چہل قدمی کرنے سے جسم کو زیادہ توانائی ملتی ہے اور اُس کا تحرک بڑھتا ہے۔
عمومی چہل قدمی صرف ٹانگوں کی حرکت کا نام ہے جبکہ نارڈک واک میں پورے جسم کو تحرک ملتا ہے۔ دو بڑے ڈنڈوں یا پولز کی مدد سے تیز چلنے کے عمل میں پورے جسم کو متحرک ہونے کا موقع ملتا ہے اور یوں چہل قدمی سے حاصل ہونے والے فوائد میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈنڈوں یا چھڑیوں کی مدد سے کی جانے والی چہل قدمی میں جسم کے تمام پٹھوں کو متحرک ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ایسی حالت میں فرحت کا احساس بھی بڑھتا ہے اور جسم کو توانائی بھی زیادہ ملتی ہے۔ تیز قدموں سے چلنے کی صورت میں جسم کو زیادہ توانائی ملتی ہے اور جسم کی حدت بھی مطلوبہ حد تک بڑھتی ہے۔
چہل قدمی کا ایک بنیادی مقصد صبح کی تازہ فضا میں زیادہ سے زیادہ دیر تک سانس لینا بھی ہے تاکہ پھیپھڑوں کو تازہ ہوا ملے اور وہ دن بھر بہتر حالت میں کام کریں۔ صبح کی ہوا خاصی فرحت بخش ہوتی ہے اور تب فضا میں آلودگی بھی نہیں ہوتی۔ جیسے جیسے سورج چڑھتا جاتا ہے، فضا گاڑیوں اور فیکٹریوں کے دھویں سے آلودہ ہوتی جاتی ہے اور ایسی فضا میں سانس لینے سے کچھ زیادہ فوائد حاصل نہیں ہو پاتے۔
مزید پڑھیں :
چہل قدمی یا ٹریڈمل صحت کے لیے بہتر آپشن کونسا ہے















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔