’دھوم‘ جیسی چوری کی کوشش میں چور ٹانگ تڑوا کر جیل پہنچ گیا
بھارت کے شہر بھوپال میں ایک شخص نے، جو خود کو ’پروفیشنل‘ چور کہتا ہے، دھوم جیسے اسٹائل میں چوری کی کوشش کی اور اس دوران ٹانگ تڑواکر جیل پہنچ گیا۔
ونود یادو ٹکٹ خرید کر ایک عجائب گھر میں داخل ہوا اور وہاں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اُس نے سوچا تھا کہ جب عجائب گھر بند ہوجائے گا تب وہ کم و بیش پندرہ کروڑ کا سونا چراکر نکل بھاگے گا۔ وہ دھوم ٹو میں رتک روشن کے کردار سے بہت متاثر تھا۔
چال الٹی پڑگئی اور ونود یادو بھوپال کے سرکاری عجائب گھر میں بے ہوش ملا۔ سونے کے قیمتی سکے اور زیورات اُس کے پاس ہی پڑے ہوئے تھے۔ وہ اتوار کو عجائب گھر میں داخل ہوا تھا اور پیر کو بھی عجائب گھر بند تھا۔
پولیس کے مطابق اس نے دو گیلری روزم میں گھس کر قیمتی نوادر چرائے۔ منگل کو صبح ساڑھے دس بجے جب اسٹاف نے عجائب گھر کھولا تو شیشے ٹوٹے ہوئے پائے اور قیمتی اشیا غائب تھیں۔
ایک راہداری میں ونود یادو اسٹاف کے ارکان کو بے ہوش ملا۔ اُس کے نزدیک ہی وہ تھیلا رکھا تھا جس میں کروڑوں روپے کے نوادر تھے۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ 23 فٹ کی بلندی سے کود کر بھاگنے کی کوشش میں وہ اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا تھا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس ریاض اقبال نے کہا کہ پولیس نے عجائب گھر سے 50 سے زیادہ فنگر پرنٹس لیے ہیں تاکہ ونود یادو کے کسی ساتھی کا سراغ لگایا جاسکے۔
ونود کے پاس سے ملنے والے سکوں کی مجموعی قدر آٹھ سے دس کروڑ روپے ہے۔ پورے عجائب گھر میں رکھی ہوئی اشیا کی مجموعی مالیت 50 کروڑ روپے ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔