اپ ڈیٹ 26 فروری 2026 03:55pm

عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس (القادر ٹرسٹ کیس) میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے منظور ہوگئی ہے۔ عدالت نے جلد سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کو 11 مارچ کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے متعدد وکلا ایک ساتھ روسٹرم پر آ گئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ ججز نے ریمارکس دیے کہ تمام وکلا ایک ساتھ روسٹرم پر کیوں آ رہے ہیں اور کیا عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ایسی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ آج عدالت کا موڈ بھی خوشگوار ہے اور وہ اسے خراب نہیں کرنا چاہتے۔

سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستیں کئی ماہ سے سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کا مسئلہ درپیش ہے اور علاج کے لیے انہیں اسپتال لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بشریٰ بی بی رمضان کے مہینے میں جیل میں ہیں، اس لیے استدعا ہے کہ مرکزی اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے سزا معطلی کی مرکزی اپیلیں 11 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

واضح رہے کہ اس مرحلے پر مرکزی سزا معطلی درخواستیں مقرر نہیں ہوئیں بلکہ صرف جلد سماعت سے متعلق متفرق درخواستیں سماعت کے لیے لگائی گئی ہیں۔ ان سزا معطلی درخواستوں پر آخری سماعت 26 ستمبر 2025 کو ہوئی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیکل بنیادوں پر بھی جلد سماعت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر عائد اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے اپیلوں کو باقاعدہ نمبر لگا کر سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا۔

اپیلوں پر اعتراضات دور کرنے اور وقت میں توسیع کی متفرق درخواستوں پر سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کی۔ اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجا اور دیگر وکلا کے علاوہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں بھی عدالت میں موجود تھیں۔

۔

سلمان صفدر نے عدالت سے کہا کہ وہ پہلی بار پیش ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں خالی ہاتھ واپس نہ بھیجا جائے۔ اس پر عدالت نے قرار دیا کہ آپ کی دونوں متفرق درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں۔

سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے اپیلوں پر ایسے اعتراضات لگائے گئے جو غیر ضروری تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اعتراضات سے متعلق انہیں بروقت آگاہی نہیں دی گئی اور جب سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی گئیں تو اعتراضات کا علم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وکالت نامے کے پرانا ہونے اور صفحات پر فلیگ نہ لگنے جیسے اعتراضات بھی سامنے آئے، حالانکہ بعد میں رجسٹرار آفس نے خود ہی کچھ اعتراضات واپس لے لیے۔

۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ باقی ماندہ اعتراضات دور کرنے کے لیے عدالت سات دن کا وقت دے رہی ہے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر صفحات پر فلیگ لگانے کا اعتراض ہے تو اسے بھی پورا کر لیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے اعتراضات دور کرنے اور وقت میں توسیع کی دونوں متفرق درخواستیں منظور کر لیں۔

سزا معطلی کی درخواستوں پر 11 مارچ کو تفصیلی سماعت ہوگی۔

Read Comments