لاہور: پانچ سالہ بچے کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین، سگا باپ قاتل نکلا
لاہور کے علاقے چوہنگ میں پانچ سالہ بچے کے بہیمانہ قتل کا افسوسناک ڈراپ سین ہو گیا، جہاں معصوم اذان کا قاتل اس کا اپنا سگا باپ نکلا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اپنے مخالفین کو پھنسانے کی خاطر سفاکانہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے ہی بیٹے کو قتل کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے چوہنگ سے لاپتہ ہونے والے پانچ سالہ اذان کی لاش گزشتہ روز انڈسٹریل ایریا کے قریب کھیتوں سے برآمد ہوئی تھی۔
تفتیشی حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران شک کی بنیاد پر بچے کو باپ کو گرفتار کیا گیا، دورانِ تفتیش ملزم اعظم نے بنیٹے کو قتل کرنے اعتراف کیا۔
بچے کے اغواء کا مقدمہ اس کی والدہ شازیہ بی بی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کا آغاز کیا اور متعدد افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اور تکنیکی بنیادوں پر کی گئی تفتیش کے دوران چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا کہ مقتول کا باپ اعظم ہی اصل ملزم ہے۔
ملزم نے مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے اپنے پانچ سالہ بیٹے کو قتل کیا اور بعد ازاں لاش کو سنسان مقام پر پھینک دیا تاکہ واردات کو اغواء اور دشمنی کا رنگ دیا جا سکے۔
مقتول کی بہن کے بیان کے مطابق اذان گھر سے قریبی دکان پر جانے کے لیے نکلا تھا تاہم واپس نہ آیا، جس کے بعد اہلِ خانہ نے تلاش شروع کی اور بعدازاں مقدمہ درج کروایا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم اعظم کا اپنے مخالف غلام رسول سے حویلی لکھا کے علاقے میں رقم کے لین دین پر تنازعہ چل رہا تھا۔
تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ اسی دشمنی کو جواز بنا کر ملزم نے اپنے مخالف کو پھنسانے کی غرض سے یہ ہولناک سازش تیار کی۔
واردات کی منصوبہ بندی میں ملزم کا بھائی ندیم بھی مبینہ طور پر شامل تھا، جسے گرفتار کر کے تفتیشی ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔
اہلِ علاقہ کے مطابق مقتول کا خاندان چھ ماہ قبل حجرہ شاہ مقیم سے لاہور منتقل ہوا تھا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ شہریوں نے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے اور اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔