شائع 30 جنوری 2026 10:49pm

سانحہ بھاٹی گیٹ پر انکوائری رپورٹ مکمل، 3 افسران غفلت کے مرتکب قرار

لاہور میں سانحہ بھاٹی گیٹ پر قائم ہائی پاور کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کمیٹی نے تین افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی ہدایت پر ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی احمد ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور بھی شامل تھے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، شواہد اکٹھے کیے اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے۔ اس کے علاوہ متوفی سعدیہ کے اہل خانہ کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ایس پی سٹی، ایس ڈی پی او اور متعلقہ ایس ایچ او کی غفلت ثابت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایس پی کی موجودگی میں متوفی خاتون کے شوہر پر ایس ایچ او کے ریٹائرنگ روم میں تشدد کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ہائی پاور کمیٹی نے تینوں افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اپنی سفارشات آئی جی پنجاب کو بھجوا دی ہیں۔ افسران کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ آئی جی پنجاب کریں گے۔

ماں بیٹی کی مین ہول میں گر کر ہلاکت حادثہ قرار

دوسری جانب لاہور داتا دربار کے قریب ماں بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر پولیس نے واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے متوفیہ کے والد ساجد کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ بھائی گیٹ میں درج کیا گیا، تین نامزد ملزمان گرفتار بھی کر لے گئے جب کہ مدعی مقدمہ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر پر غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔

واقعے کے بعد حکومتی مشینری حرکت میں آ گئی، 47 افسران کو برخاست کر دیا گیا جب کہ گٹر کور کرنے کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے گرد لوہے کی باؤنڈری شیٹ بھی لگا دی گئی تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کو شہریوں نے احسن اقدام قرار دیا ہے۔ پرندہ مارکیٹ کے قریب واقعے کے بعد ہونے والے حفاظتی اقدامات پر شہری کہتے ہیں کہ یہ انتظامات پہلے کیے جاتے تو انسانی جانیں محفوظ رہتیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ واقعے کو قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افسران کی گرفتاری اور دو افسران کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے لے کر متاثرہ خاندان کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

مدعی مقدمہ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر پر غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کیا ہے تاہم مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

ادھر ڈی آئی جی لاہور کی جانب سے ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل جب کہ ڈی ایس پی مامون کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری بھی کیا گیا ہے۔

مدعی مقدمہ اور خاتون کے والد کی فیملی نے پولیس پر سادہ کاغذ پر نشان انگوٹھا اور دستخط لینے کا الزام عائد کر دیا۔

ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ڈیڈ ہاوس میں متوفی خاتون کے والد کا انگوٹھا درخواست مقدمہ میں تصیح کے لیے لگوایا گیا تھا، مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کو لاہور کی ضلع کچہری عدالت میں جسمانی ریمانڈ کے لیے آج پیش نہیں کیا گیا۔

Read Comments