شائع 14 جنوری 2026 02:50pm

پیاسے شہر کو لولی پاپ

کراچی ایک ایسا شہر ہے جو ہر صبح پانی کے سوال کے ساتھ آنکھ کھولتا ہے اور ہر رات اسی سوال پر سوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دن کے وقت یہ سوال حکمرانوں سے پوچھا جاتا ہے اور رات کو یہ سوال خود سے۔ اب ایک بار پھر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں واٹر ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کی جا رہی ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کو متبادل نظام لانے کی ہدایت دی ہے۔ سننے میں یہ فیصلہ انقلابی لگتا ہے، مگر کراچی کے باسی جانتے ہیں کہ یہاں انقلابات فائلوں میں جنم لیتے ہیں اور فائلوں میں ہی دفن ہو جاتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ٹینکر سسٹم ختم ہونا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کراچی اس فیصلے کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مرتضیٰ وہاب واقعی اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرا سکیں گے، یا یہ بھی ماضی کی طرح ایک وقتی اعلان ثابت ہوگا؟

میئر کراچی کے مطابق شہر میں قائم سات واٹر ہائیڈرنٹس سے واٹر بورڈ کو سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے کی آمدن ہوتی تھی، مگر یہ ٹھیکہ رواں سال سے پہلے ہی ختم ہو چکا تھا، جسے وقتاً فوقتاً توسیع دی جاتی رہی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ٹینکر سسٹم کو مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔

اگر ٹینکر سسٹم اتنا ہی غلط تھا تو برسوں تک اسے بڑھایا کیوں جاتا رہا؟ اور اگر یہ آمدن غیر قانونی تھی تو یہ 30 کروڑ روپے کہاں جاتے رہے؟

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کراچی کا ایک بڑا حصہ آج بھی واٹر ٹینکرز پر انحصار کرتا ہے۔ نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، گلستانِ جوہر اور فیڈرل بی ایریا جیسے نسبتاً منظم علاقوں میں بھی ہفتوں پانی نہیں آتا۔ بلدیہ ٹاؤن، لیاری اور کئی دیگر علاقوں میں تو پانی کی لائنیں ہی موجود نہیں۔ ایسے میں ٹینکر بند کرنے کا اعلان ایسے ہی ہے جیسے کسی ایسے مریض سے ڈرِپ ہٹا دی جائے جسے متبادل علاج دیا ہی نہ گیا ہو۔

کراچی کے پانی کے بحران کو ہمیشہ قلت کا نام دیا جاتا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ قلت نہیں بلکہ بدانتظامی ہے۔ شہر کی زیرِ زمین پائپ لائنیں دہائیوں پرانی ہیں، جو جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی یا رساؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 25 فیصد پانی لائنوں ہی میں ضائع ہو جاتا ہے۔ یعنی جو پانی کراچی تک پہنچتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ شہریوں تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین نگل جاتی ہے۔

دھابے جی، کے تھری اور نارتھ ایسٹ کراچی جیسے مرکزی پمپنگ اسٹیشنوں میں ذرا سی خرابی پورے شہر کو کئی دن کے لیے پیاسا بنا دیتی ہے۔ مرمت کے نام پر بڑے پمپس بند کر دیے جاتے ہیں اور کراچی والوں کو بتایا جاتا ہے کہ ’تکنیکی مسئلہ‘ ہے۔ یہ تکنیکی مسئلہ ہر چند ماہ بعد پیدا ہوتا ہے، مگر اس کا مستقل حل کبھی تلاش نہیں کیا جاتا۔

حالیہ مہینوں میں انہی خرابیوں اور پائپ لائنوں میں رساؤ کے باعث شہر کو 150 ملین گیلن یومیہ تک پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظام اتنا کمزور ہے تو ٹینکر سسٹم ختم کرنے سے پہلے اسے مضبوط کیوں نہیں بنایا گیا؟

کراچی میں پانی چوری کوئی خفیہ معاملہ نہیں۔ مین لائنوں سے غیر قانونی کنکشنز لگا کر پانی نکالا جاتا ہے، یہی پانی غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے ٹینکرز میں بھرا جاتا ہے اور پھر شہریوں کو مہنگے داموں بیچا جاتا ہے۔ اس پورے کھیل میں ٹینکر مافیا تو سامنے ہے، مگر پردے کے پیچھے کون ہے؟ یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں ہے، مگر جواب دینے والا کوئی نہیں۔

یہ ماننا مشکل ہے کہ اربوں روپے کے اس کاروبار میں واٹر بورڈ کے اندر موجود عناصر شامل نہ ہوں۔ جب روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہوں تو پھر یہ توقع رکھنا کہ صرف ایک حکم نامے سے یہ دھندا ختم ہو جائے گا، خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

کراچی کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر پانی کی فراہمی کا نظام وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ طلب اور رسد کے درمیان فرق اب کئی سو ملین گیلن یومیہ تک پہنچ چکا ہے۔ نئے علاقے آباد ہو رہے ہیں، عمارتیں بلند ہو رہی ہیں، مگر پانی کی لائنیں وہی پرانی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر نیا فلیٹ ایک نیا مسئلہ بن جاتا ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر ٹینکر سسٹم ختم کر دیا گیا تو اس خلا کو کون پُر کرے گا؟ کیا واٹر کارپوریشن کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ فوری طور پر متبادل نظام لا سکے؟ یا شہریوں کو ایک بار پھر ’جلد بہتری آئے گی‘ کا وعدہ کر کے خاموش کرا دیا جائے گا؟

کراچی کے شہری وعدوں سے تھک چکے ہیں۔ کے-فور منصوبہ برسوں سے فائلوں میں گھوم رہا ہے، بی آر ٹی کا حال سب کے سامنے ہے، سڑکیں کھود کر چھوڑ دی جاتی ہیں اور بارش آتے ہی شہر ڈوب جاتا ہے۔ ہر میئر نے آ کر تقاریر کیں، مگر عملی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی۔

اس لیے میئر کراچی نے جب واٹر ٹینکر سسٹم ختم کرنے کا اعلان کیا تو شہری خوش ہونے کے بجائے خوف زدہ ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں یہ فیصلہ بغیر تیاری کے نافذ نہ کر دیا جائے، جس کا خمیازہ ہمیشہ کی طرح عام آدمی کو بھگتنا پڑے۔

واٹر ٹینکر مافیا کا خاتمہ ضروری ہے، مگر اس کا طریقہ یہ نہیں کہ پورا نظام ایک دن میں بند کر دیا جائے۔ پہلے پائپ لائنوں کی مرمت، پانی چوری کے خلاف حقیقی کارروائی، انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور شفاف نظام متعارف کرانا ہوگا۔ جب تک نل میں پانی نہیں آئے گا، ٹینکر بند کرنا ظلم کے مترادف ہوگا۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا فیصلہ کاغذ پر درست لگتا ہے، مگر کراچی کاغذ پر نہیں، زمین پر بستا ہے۔ اگر یہ فیصلہ عملی اصلاحات کے ساتھ نافذ ہوا تو تاریخ اسے ایک جرات مندانہ قدم کے طور پر یاد رکھے گی۔ اور اگر یہ بھی ماضی کی طرح محض اعلان ثابت ہوا تو کراچی کے شہری ایک بار پھر یہی کہیں گے،’ لولی پاپ بدل گیا ہے، مگر ذائقہ وہی پرانا ہے۔‘

کراچی کو اب دعووں کی نہیں، نل سے بہتے پانی کی ضرورت ہے اور وقت یہ ثابت کرے گا کہ یہ اعلان اصلاح کی شروعات ہے یا ایک اور سیاسی بیانیہ۔

نوٹ: مصنف کی آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Read Comments