شائع 08 جنوری 2026 08:55am

امریکہ: امیگریشن حکام نے خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

امریکہ کے شہر منی ایپلس میں بدھ کے روز امیگریشن حکام کی کارروائی کے دوران ایک 37 سالہ خاتون اپنی گاڑی میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گئیں۔ واقعے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد پولیس کارروائی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔

مقامی اور وفاقی حکام کے مطابق یہ واقعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملک گیر امیگریشن کریک ڈاؤن مہم کے دوران پیش آیا، جس کے بعد شہر میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ویڈیو میں واضح ہے کہ خاتون نے جان بوجھ کر اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی اور فائرنگ خود کے دفاع میں کی گئی۔

منی ایپلس کے میئر جیکب فری نے وفاقی حکومت کے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ امیگریشن ایجنٹ نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔

ایک پریس کانفرنس میں میئر فری نے کہا کہ انہوں نے خود واقعے کی ویڈیو دیکھی ہے اور وہ حکومت کے بیان سے متصادم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو ’خود کا دفاع‘ قرار دینا حقائق کے خلاف ہے۔ تاہم انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں۔

منی سوٹا سٹی کونسل نے ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت رینی نکول گُڈ کے نام سے کی اور کہا کہ وہ واقعے کی صبح اپنے پڑوسیوں کی مدد کے لیے نکلی تھیں، مگر ان کی جان وفاقی کارروائی کے دوران چلی گئی۔

سٹی کونسل نے بھی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی ’آئی سی ای‘ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شہر چھوڑ دے۔

واقعے کے بعد شام کے وقت جائے وقوعہ پر ہزاروں افراد پر مشتمل ہجوم جمع ہو گیا۔ ٹی وی مناظر میں دکھایا گیا کہ لوگ موم بتیاں جلا کر خاتون کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔

اس سے قبل کچھ مظاہرین کو بھاری ہتھیاروں سے لیس وفاقی اہلکاروں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جنہوں نے مظاہرین ہر آنسو گیس جیسے کیمیائی مواد کا استعمال کیا۔

اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ کے مخالفین نے دیگر امریکی شہروں میں بھی احتجاج کی کال دی، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ ملک گیر سطح پر سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر ان ریاستوں اور شہروں میں جہاں ڈیموکریٹ قیادت موجود ہے۔

امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی کی سربراہ کرسٹی نوم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آئی سی ای کے اہلکار برف میں پھنسی ایک گاڑی کو ریسکیو کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں مظاہرین نے انہیں ہراساں کیا۔

ان کے مطابق رینی گُڈ پورا دن اہلکاروں کے پیچھے رہی تھیں، انہوں نے سرکاری گاڑی کا راستہ روکا اور راستے سے ہٹنے کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔

نوم نے دعویٰ کیا کہ خاتون نے اپنی گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی اور ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی، جس کے بعد فائرنگ ہوئی۔

ان کے بقول یہ معاملہ ایف بی آئی کے زیرِ تفتیش ہے، جبکہ ریاستی حکام نے بھی اپنی الگ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اور خبر رساں ادارے کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز نے حکومتی مؤقف پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گاڑی سڑک پر جزوی طور پر رکی ہوئی ہے۔ ڈرائیور آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے اور پھر رک کر دوسری گاڑی کو گزرنے کا اشارہ دیتی ہے۔ اسی دوران ایک پک اپ ٹرک رکتا ہے اور اس میں سے دو اہلکار نکل کر گاڑی کی طرف بڑھتے ہیں۔

جب ایک اہلکار ڈرائیور کو گاڑی سے باہر آنے کا کہتا ہے تو گاڑی کچھ لمحوں کے لیے پیچھے ہٹتی ہے۔ بعد میں گاڑی آگے بڑھتی ہے اور ایک اہلکار فائرنگ کر دیتا ہے۔

ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گاڑی نے واقعی اہلکار کو ٹکر ماری یا نہیں، کیونکہ اہلکار پورے وقت اپنے پاؤں پر کھڑا رہا۔

فائرنگ کے بعد گاڑی تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور کھڑی ہوئی گاڑیوں اور ایک بجلی کے کھمبے سے جا ٹکراتی ہے۔

کرسٹی نوم کے مطابق فائرنگ کرنے والا اہلکار تجربہ کار تھا اور اس نے اپنی تربیت کے مطابق عمل کیا۔ اہلکار کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد اسے جانے دیا گیا۔

رینی گُڈ کی والدہ نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ ان کی بیٹی انتہائی رحم دل انسان تھیں اور وہ کسی قسم کے تصادم پر یقین نہیں رکھتی تھیں۔

ان کے مطابق رینی نے ساری زندگی دوسروں کی مدد کی، وہ محبت کرنے والی اور معاف کرنے والی طبیعت کی مالک تھیں۔

پولیس چیف نے بتایا کہ رینی گُڈ امیگریشن کارروائی کا ہدف نہیں تھیں۔ قریبی رہائشیوں نے بھی تصدیق کی کہ وہ اسی محلے میں رہتی تھیں۔

محکمہ داخلی سلامتی کے مطابق منی سوٹا میں مہاجرین کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی جاری ہے، جس میں دو ہزار کے قریب اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد سنگین جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری ہے۔ یہ کارروائی صومالی کمیونٹی سے منسلک بعض فلاحی اداروں میں مبینہ مالی بدعنوانی کے الزامات کے بعد شروع کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پندرہ سو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

منی سوٹا کے ڈیموکریٹ گورنر ٹِم والز نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اس واقعے کی ذمہ داری ٹرمپ انتظامیہ پر عائد کی۔

انہوں نے کہا کہ خوف اور تنازع پیدا کرنے والی حکمرانی کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں اور اب ایک انسان کی جان چلی گئی ہے۔ انہوں نے ممکنہ بدامنی کے پیش نظر نیشنل گارڈ کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

Read Comments