اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا درست نہیں، او آئی سی کا اعلامیہ
اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد خطے میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ جہاں اسرائیل اس فیصلے کو سکیورٹی اور اسٹریٹجک مفادات سے جوڑ رہا ہے، وہیں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے نام نہاد صومالی لینڈ ریجن کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے معاملے پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس غیر قانونی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
اس معاملے پر او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا غیرمعمولی اجلاس جدہ میں منعقد ہوا جس میں صومالیہ کی صورتحال اور اسرائیل کے یکطرفہ و غیرقانونی اقدام پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں مستقل نمائندے محمد فواد شیرنے غیر معمولی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، فواد شیرنے صومالیہ کی خود مختاری پر پاکستانی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ اسرائیلی اقدام صومالیہ کی سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے، اسرائیل کی فلسطینی عوام کو صومالی لینڈ ملک بدری پالیسی سخت پریشان کن ہے۔
فواد شیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور تنازعات کا مرکزی ذریعہ ہے، اسرائیل اب اس غیر مستحکم رویئے کو افریقہ میں برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے علاقائی امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ منظور کر لیا گیا، اعلامیے میں صومالیہ کی حمایت میں اوآئی سی ممالک نے اسرائیل کے فیصلے کی مذمت کی۔
اسرائیل اور صومالی لینڈ، اسٹریٹجک مفادات کیا ہیں؟
خلیج عدن کے ساحل پر واقع ایک نیم صحرائی علاقے صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالی آمر سیاد بری کی حکومت کے خاتمے کے بعد خود کو صومالیہ سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اگرچہ صومالی لینڈ کے پاس اپنی حکومت، پارلیمنٹ، کرنسی اور سیکیورٹی ادارے موجود ہیں، تاہم وہاں ایک فعال حکومت، پولیس نظام اور اپنی کرنسی موجود ہے۔ صومالیہ اب بھی اسے اپنے ملک کا حصہ قرار دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی عالمی منظوری کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
خیال رہے کہ دسمبر 2025 میں اسرائیل نے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے صومالی لینڈ کی قیادت نے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل زرعی ترقی، صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صومالی لینڈ کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے۔
اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے صومالی لینڈ کے صدرعبدالرحمان محمد عبداللہی کو مبارک باد دی تھی اور انہیں اسرائیل کے دورے کی دعوت بھی دی تھی۔
ماہرین اور بی بی سی اردو کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے اس فیصلے کے پیچھے اہم جغرافیائی اور سیکیورٹی عوامل کارفرما ہیں۔
اسرائیلی تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بحیرہ احمر کے قریب ایسے اتحادیوں کی ضرورت ہے جو ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغیوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں مدد دے سکیں۔ یمن کے قریب ہونے کے باعث صومالی لینڈ اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک مقام سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے پر پاکستان سمیت کئی ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے تحفظات کا اظہارکیا تھا۔
صومالی صدر حسن شیخ محمود نے بھئ اسرائیلی اقدام کو ملکی وحدت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا، اسرائیل کے اس فیصلے کی چین، ترکیہ، سعودی عرب، افریقی یونین اور دیگر کئی ممالک اور تنظیموں نے بھی مذمت کی تھی۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیل بحیرہ احمر کے اطراف اپنی سکیورٹی موجودگی مضبوط کرنا چاہتا ہے۔