شائع 11 ستمبر 2021 12:51am

وفاقی وزیر،اعظم سواتی کے الزامات، ای سی پی کاہنگامی اجلاس طلب

الیکشن کمیشن پروفاقی وزیراعظم سواتی کے سنگین الزامات کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس پیر کو طلب کر لیا،الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومتی وزرا کے الزامات پر سخت ردعمل متوقع ہے۔

اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے قائمہ کمیٹی میں پیش آئے واقعے سے چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کوآگاہ کیا ،جس پرچیف الیکشن کمشنرنےاعظم سواتی کے الزام پرشدید اظہاربرہمی کیا۔

معاملے کا جائزہ لینے کیلئے چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس ہوا، تاہم ایک ممبر کی غیرحاضری پر اجلاس پیر تک موخرکردیا گیا۔

سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال ملک ارکان کو بریفنگ دیں گے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں حکومتی وزیر کے الزامات سے بھی ارکان کو آگاہ کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے حکومتی وزرا کے الزامات پر سخت ردعمل متوقع ہے۔

قائمہ کمیٹی اجلاس، اور اعظم سواتی کے الزامات

قائمہ کمیٹی میں اجلاس کے موقعے پر سینیٹر اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن پارلیمان کا مذاق بنارہا ہے، اس نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں، آئین سے الیکشن کمیشن کو نکال دینا چاہیئے، آئینی ترمیم کرکے عام انتخابات کرانے کا اختیار حکومت وقت کو دینا چاہیئے، الیکشن کمیشن ماضی کے انتخابات میں دھاندلی کراتا رہا ہے۔

پہلے چیئرمین تاج حیدر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس ہوا ۔

بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام صاف، شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کرانا ہے، 2014 میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا حکم دیا، کوئی ادارہ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے حق پر اعتراضات نہیں لگاسکتا، الیکشن کمیشن نے کیسے اعتراضات کا لفظ استعمال کیا، اسکو حذف کیا جائے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے جواب میں اعتراضات کا لفظ حذف کرادیا۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے کیسے ٹائم کیلکولیٹ کیا ہے کہ وقت کم ہے ،فلپائن نے اس سے بھی کم وقت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال کیا، مثال کے بغیر تحفظات کا اظہار کرنا کسی آئینی ادارے کیلئے غیر مناسب ہے ۔

بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کیسےرازداری نہیں رہے گی ،کمیشن قومی ذمہ داری ادا کرنے سے مت بھاگے، انکار کا مطلب تو پھر کچھ اور ہے، ای وی ایم پر کام کرنا الیکشن کمیشن کے آئی ٹی ونگ کا کام تھا، الیکشن کمیشن یہ کام نہیں کرسکا تو یہ اس کی اپنی ناکامی ہے، اس نے اتنے سال پائلٹ پروجیکٹ کیوں روکے رکھا، الیکشن کمیشن کے اعتراضات خود ان کے خلاف چارج شیٹ ہے۔

Read Comments