سانحہ مہران ٹاون، فیکٹری مالک اور دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد
سانحہ مہران ٹائون کیس میں عدالت نے فیکٹری مالک اور دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی، جسکے بعد فیکٹری مالک حسن میتھا،اورمینیجرعمران زیدی کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ مکان مالک طارق فرار ہوگیا۔
کراچی میں مہران ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس کی مقامی عدالت میں سماعت ہوئی۔ عدالت کی جانب سے عبوری ضمانتیں مسترد کئے جانے پر فیکٹری کے مالک حسن میتھا اور منیجر عمران زیدی کو گرفتار کرلیا گیا۔ جبکہ مکان مالک فیصل طارق احاطہ عدالت سے فرار ہوگیا۔
اس سے قبل سماعت کے داران مکان مالک کے وکیل کا اپنے دلائل میں کہناتھا کہ عمارت میں کمرشل پی ایم ٹی نصب ہے، اگر اندرونی خرابی کئ وجہ سے آگ لگی تو مالک مکان ذمہ دار نہیں۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ آگ لگنے کے بعد بھی پی ایم ٹی محفوظ رہا ، فیکٹری مالک کے وکیل کاکہناتھا کہ فیکٹری چلتی ہوئی حالت میں کراۓ پر لی،فیکٹری میں ہنگامی اخراج کا راستہ موجود تھا ۔
پس منظر ] کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں خطرناک آتشزدگی سے ہلاکتوں کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے۔
فیکٹری میں آتشزدگی سے ہلاکتوں کے بعد دوسرے روز بھی فضا سوگوار ہے۔ کورنگی مہران ٹاون میں قائم فیکٹری میں ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے، فیکٹری میں آگ لگنے اور ہلاکتوں پر ڈپٹی کمشنر نے کمشنر کراچی نوید شیخ کو ابتدائی رپورٹ ارسال کردی۔
رپورٹ کے مطابق ، فیکٹری میں کیمیکل کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، ایمرجنسی ایگزٹ نہ ہونے سے ہلاکتیں بڑھیں۔ انتظامات نہ ہونے کے سبب مزدوروں کی دم گھٹنے سے موت واقع ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھت پر موجود دروازے پر تالہ لگا ہوا تھا۔ تالہ توڑنے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی۔ کھڑکیوں پر لگی گرل کو توڑنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صبح دس بج کر آٹھ منٹ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ آگ بجھانے میں نو گھنٹے کا وقت لگا۔ ریسکیو کارروائیوں میں شریک دو اہلکار بھی زخمی ہوئے۔