حکومت سے ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کا ڈرافٹ طلب
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات نے حکومت سے ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کا ڈرافٹ طلب کر لیا جبکہ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے رائے کے لئے آئندہ اجلاس میں صحافتی تنظیموں اور میڈیا ماہرین کو بلانے کا فیصلہ کر لیا ۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی صدارت میں ہوا، جس میں مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق معاملے کا جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا اس کا ڈرافٹ کب معرض وجود میں آئے گا،بل کے صورت میں ہمارے سامنے کوئی مسودہ نہیں آیا، ہم اس میں سفارشات بھی دینا چاہتے ہیں۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ ہم نے پہلے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے ، اس میں کوئی جسمانی سزا نہیں ہے، اس میں جرمانے متعارف کروائے ہیں،فیک نیوز ہمارے لیئے چیلنج بنا ہوا ہے، فرخ حبیب نے کہا کہ اتھارٹی چیئرمین اور 12ممبران پر مشتمل ہو گی ،میڈیا کمپلینٹس کمیشن میں چار ممبرزحکومت اور چار اسٹیک ہولڈرز کے ممبرز ہوں گے ۔
فرخ حبیب کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن 21روز میں فیصلہ کرے گا ، میڈیا کمپلینٹس کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل میڈیا ٹربیونل میں لے کر جائیں گے ،
فرخ حبیب نے مزید کہا کہ فیک نیوز ہمارے لیئے زہر قاتل بنتی جا رہی ہے، حقائق کو رپورٹ ہونا چاہیئے، یہ اتھارٹی کسی ایک حکومت کے لیئے نہیں ہے، دو پارٹیز کے لیڈرز نے کہا ہم اس کومسترد کرتے ہیں، نہ انہوں نے اس کو دیکھا نہ پڑھا،صحافیوں کی تنخواہوں اور جاب سیکیورٹی کے معاملے پر ہم کمپرومائز نہیں کریں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتھارٹی میں پارلیمنٹیرینز کو بھی شامل کریں ، اس میں پارلیمان کی بھی نمائندگی ہونی چاہیئے، اس پر اعتراضات کیا ہیں یہ ہمیں نہیں پتہ چل رہا،مجھے سمجھ نہیں آئی اس پر اعتراضات ہیں کیا؟ مسودے کا جلد از جلد سامنے آنا ضروری ہے ۔
رکن کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ صحافت ہمارے ہاں بڑی مجبور ہے، پابند ہے زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، میں نے ضیاء الحق اور مشرف کا دور دیکھا لیکن جو میڈیا کی آزادی کے حالات اس وقت ہیں اتنی قدغنیں کبھی نہیں تھیں ۔
اس موقعے پر وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ یہ انٹرنیشنل پراپیگنڈا ہے ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آج جتنی آزادی ہے پہلے کبھی نہیں تھی، کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں صحافتی تنظیموں اور میڈیا ماہرین کو بلانے کا فیصلہ کر لیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی نے شہباز شریف کی تقریردکھائی جس پر رکن کمیٹی عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر بھی دکھا دیں، وزیرمملکت فرخ حبیب نے کہا کہ بالکل دکھائیںگے وہ پاکستان واپس آجائیں اور سزا پوری کریں ۔
چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی وی پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جلسے میں کی گئی تقریر دکھائی جانے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی نے سیاسی تقریر دکھا کرزیادتی کی ہے ہمیں نوٹس لینا چاہیئے، رکن کمیٹی عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ ریاست کس کو کہتے ہیں؟ ریاست حکومت کو نہیں کہتے ریاست کو محدود نہ کریں، اور حکومت تک اس کو نہ لے کر جائیں، آپ ریاست کو حکومت سمجھ رہے ہیں ۔