حریت رہنما علی گیلانی کی جبری تدفین، بھارتی فوج پر احتجاج کا خوف
حریت رہنما سید علی گیلانی کی جبری تدفین پر بھارتی فوج پر احتجاج کا خوف چھایا رہا ۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے پہرے تیسرے روز بھی سخت ہیں۔ سڑکیں ویران ہیں،کاروباری مراکز بند ہیں، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی تاحال معطل ہے،لیکن پابندیاں عوام کو نہ روک سکیں،حریت رہنما کی قبر پر حاضری کیلئے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
پہلے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارتی حکام نے سخت سکیورٹی میں ان کی تدفین کروا دی تھی جس میں صرف چند قریبی رشتہ داروں کو شرکت کرنے کی اجازت دی گئی۔
سید علی گیلانی کی عمر 92 برس تھی اور وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے جسد خاکی ان کے لواحقین سے ‘شرم ناک انداز میں تحویل میں لینے’ اور ان کی وصیت کے مطابق تدفین کی اجازت نہ دینے کی مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘بھارتی ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کیا گیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی جانب سے حریت رہنما اور فریڈم فائٹر سید علی شاہ گیلانی کے جسد خاکی سے غیرانسانی سلوک اور فورسز کے متشدد رویے کے خلاف پاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا’۔