طالبان نے پنج شیر کا کنٹرول حاصل کرلیا
طالبان نے پنج شیر پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور احمد مسعود اور امراللہ صالح فرار ہوگئے ہیں ،طالبان کا کہنا ہے کہ علاقے میں فائرنگ فتح کی خوشی میں کی جارہی ہے۔
طالبان نے پنج شیر میں پولیس ہیڈکوارٹر پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔
پہلے میڈیا کے ذریعے میں احمد مسعود نے وادی پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت پر زور دیا تھا اور بین الاقوامی مدد بالخصوص امریکا سے ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
اس کے علاوہ’ ٹویٹر‘ پر سرگرم کارکنوں نے ایسی ویڈیوز نشر کیں جن میں مزاحمتی گروپ کے زیر کنٹرول علاقوں کی عمارتوں میں سے ایک پر افغان جھنڈا بلند کرنے اور طالبان کے جھنڈے کو ہٹانے کو دکھایا گیا۔
تاہم اب پنج شیر پر طالبان نے کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔
دوسری جانب افغان طالبان نے حکومت سازی کی تیاریاں مکمل کرلیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کے آج ہونے والے اجلاس میں سربراہ حکومت اور کابینہ سے متعلق فیصلے کے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ملا ہیبت اللہ کو طالبان حکومت کا سپریم لیڈر جبکہ ملا عبدالغنی برادر کو حکومت کا سربراہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ڈپٹی ڈائریکٹر شیر محمد عباس استانکزئی کو افغانستان کا وزیر خارجہ مقرر کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ملا ضعیف کو پاکستان میں دوبارہ سفیر نامزد کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد اور سراج الدین حقانی کو بھی کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ طالبان کی حکومت میں عبداللہ عبداللہ، حامد کرزئی، گلبدین حکمت یار سمیت دیگر افغان رہنماؤں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔