سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد
تمام سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ سرکاری ملازم بغیر اجازت کوئی میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکتا ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آفس میمورنڈم جاری کر دیا۔
سرکاری معلومات اور دستاویزات افشا ہونے سے روکنے کیلئے حکومت نے اقدام کیا ہےاور وزیراعظم کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے چوتھا آفس میمورنڈم جاری کر دیا .
میمورینڈم کے مطابق سرکاری ملازم بغیر اجازت کوئی میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکتا، میمورنڈم کے مطابق سرکاری ملازمین گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964 کی پاسداری کریں۔ رولز 1964 سرکاری ملازم کو کسی بھی بیان بازی یا رائے دینے سے روکتا ہے۔
حکمنامہ کے مطابق ملازمین کے بیان یا رائے زنی سے حکومت کی بدنامی کا خطرہ ہو سکتا ہے، حکومتی وارننگ کے باوجود سرکاری ملازمین کی جانب سے سوشل میڈیا کا استعمال جاری ہے۔
دوسری جانب میڈیا وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری میڈیا ریگولیشن سے متعلق تمام موجودہ قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں ۔
پہلے پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ میڈیا ریگولیشن سے متعلق تمام موجودہ قوانین کو منسوخ کیا جا رہا ہے اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئی قانون سازی کی جا رہی ہے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کو اطلاعات و نشریات سے متعلق پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مسودہ قانون کی اہم خصوصیات پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھاکہ جدید دور میں ٹیلی ویژن ، ریڈیو، اخبارات موبائل فون کا حصہ بن چکے ہیں اور انہیں سنگل اور کنورجڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت ہے ۔
فواد چوہدری کا کہناتھا کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے الیکٹرانک ، پرنٹ ، ڈیجیٹل اور ابھرتے ہوئے میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔