'عدالتوں سے غریب کے بجائے ججوں اور جرنیلوں کو ریلیف مل رہا ہے'
پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے کہا کہ 1999 میں سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والے سرکاری ملازمین کو 2010 میں قانون سازی کے ذریعے بحالی گیا تھا، عدالتوں سے غریب عوام کی بجائے ججوں اور جرنیلوں کو ریلیف مل رہا ہے۔
محکمہ آرکائیو سندھ کے دفتر میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ عدالتی حکم نامے سے 11 محکموں کے ملازمین متاثر ہوئے ہیں جس پر پیپلز پارٹی کو شدید تشویش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے امید نہیں تھی، سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ خدارا ایسا نہ کرے جو نااہل حکومت کررہی ہے، سوئی گیس کمپنی سے 26 سو ملازمین کو ایک نوٹس پر نکالا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرسکتی ہے، ملک میں بہت روزگاری ہے، محنت کش طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا میں لوگوں کو نوکریوں سے نکالاجارہا ہے، بلوچستان بھی انکے تصیب کا نشانہ بنے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس حکومت کو موقع دیا۔سپریم کورٹ ججوں او جنرلوں کو ریلیف دے رہیں، اسلام آباد میں ایک بڑے آدمی کو رییلف دیا گیا، سپریم کورٹ سے اپیل ہے وہ محنت کشوں ریلیف دے۔
شازیہ مری نے کہا کہ چند لوگ ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں ، ایسے لوگ اب پانی پر لڑوانا چاہتے ہیں، سندھ کو 1991 کے آبی معاہدے تک پانی ملنا چاہئے۔